فکروخبر ڈیسک رپورٹ
لکھنؤ : برصغیر کے ممتاز عالمِ دین، مفسر ، محدث، مفکر، مصنف اور داعی حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی کے انتقال کے ساتھ علمی و دینی دنیا کا ایک درخشاں باب اختتام کو پہنچ گیا۔ ان کی رحلت ایسے علمی اور فکری عہد کا خاتمہ ہے جس نے کئی دہائیوں تک ہندوستان سمیت عالمِ اسلام کے علمی، دعوتی اور تعلیمی حلقوں پر گہرے نقوش چھوڑے۔
مولانا سید سلمان حسینی ندوی 1954 میں لکھنؤ کے ایک ممتاز علمی و دینی خانوادے میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق خانوادۂ حسینی سے تھا اور نسب سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ تک پہنچتا تھا۔ انہیں ابتدائی عمر ہی سے ایک ایسا علمی ماحول میسر آیا جس نے ان کی شخصیت کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کیا۔ وہ برصغیر کی عظیم علمی شخصیت مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندویؒ (علی میاں) کے بھانجے تھے اور ان کی علمی و فکری تربیت سے خصوصی طور پر مستفید ہوئے۔
ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے دارالعلوم ندوۃ العلماء کے تعلیمی نظام میں اپنی علمی استعداد کو جِلا بخشی۔ حفظِ قرآنِ کریم کے بعد انہوں نے ندوہ کے کلیۃ الشریعۃ و اصول الدین سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور 1974 میں فراغت پائی۔
علمِ حدیث سے خصوصی شغف نے انہیں اعلیٰ تعلیم کے لیے سعودی عرب پہنچایا۔ ریاض کی معروف امام محمد بن سعود اسلامک یونیورسٹی سے انہوں نے 1980 میں حدیث شریف میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ ان کا تحقیقی مقالہ حافظ ابن حجر عسقلانیؒ کی شہرۂ آفاق کتاب ’’تہذیب التہذیب‘‘ میں جرح و تعدیل کی اصطلاحات کے تحقیقی مطالعے پر مبنی تھا، جسے معروف محدث علامہ عبدالفتاح ابو غدہ رحمۃ اللہ علیہ کی نگرانی میں مکمل کیا گیا۔ اس نسبت نے انہیں علمی حلقوں میں ایک ممتاز مقام عطا کیا اور وہ علامہ ابو غدہؒ کے خصوصی شاگردوں میں شمار کیے جاتے رہے۔
وطن واپسی کے بعد مولانا نے تدریس، تحقیق اور دعوت کے میدان میں بھرپور خدمات انجام دیں۔ دارالعلوم ندوۃ العلماء میں طویل عرصے تک تدریسی فرائض انجام دینے کے ساتھ وہ عمید کلیۃ الدعوۃ والاعلام کے منصب پر بھی فائز رہے۔ ان کی تدریس سے ہزاروں طلبہ نے استفادہ کیا، جن میں سے بہت سے افراد بعد میں مختلف ممالک میں علمی، دینی اور سماجی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
مولانا کی شخصیت صرف درسگاہوں تک محدود نہیں تھی بلکہ انہوں نے تعلیمی اداروں کے قیام اور فروغ میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے جامعۃ الامام احمد بن عرفان الشہید قائم کیا جبکہ مختلف تعلیمی، طبی اور فلاحی اداروں کی سرپرستی اور قیادت بھی کرتے رہے۔ ڈاکٹر عبدالعلی یونانی میڈیکل کالج اینڈ ہاسپیٹل کے چیئرمین، جمیعت شباب الاسلام کے صدر کی حیثیت سے ان کی خدمات وسیع پیمانے پر تسلیم کی جاتی ہیں۔ تعلیم کے جدید تقاضوں کو سمجھتے ہوئے انہوں نے میڈیکل، انجینئرنگ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے متعدد اداروں کے قیام اور فروغ میں بھی دلچسپی لی۔
علمی دنیا میں مولانا کا اصل تعارف ان کی تصنیفی خدمات ہیں۔ اردو اورعربی زبان میں ان کی درجنوں کتابیں شائع ہوئیں جن میں تفسیر ، حدیث، سیرت، دعوت، اسلامی فکر، معاصر مسائل اور تاریخ جیسے متنوع موضوعات شامل ہیں۔ ان کی تحریروں میں علمی گہرائی، فکری وسعت اور دعوتی درد نمایاں طور پر محسوس کیا جاتا ہے۔ صحافت کے میدان میں بھی ان کا کردار قابلِ ذکر رہا اور وہ اردو، عربی، انگریزی اور فارسی زبانوں کے متعدد رسائل و جرائد سے وابستہ رہے۔
مولانا سید سلمان حسینی ندوی مرحوم نے اسلامک سائنسز کی ترویج اور ندوہ کے فکری و علمی پیغام کو دنیا بھر میں عام کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر دنیا کے مختلف ممالک کے اسفار کیے جہاں مسلم کمیونٹی، طلبہ اور علمی حلقوں میں ان کے خطابات کو بے حد شوق سے سنا جاتا تھا، ان کے بین الاقوامی اسفار دعوتی مجالس تک محدود نہیں رہے بلکہ انہوں نے ‘انٹرنیشنل ڈائیلاگ بٹوین اسلام اینڈ اورینٹل ریلیجنز’ جیسے موثر عالمی پلیٹ فارمز پر شرکت کر کے بین المذاہب مکالمے (Interfaith Dialogue) اور اسلامی اصولوں کی سائنسی و فکری وضاحت میں کلیدی کردار ادا کیا، اپنے ان انتھک علمی اسفار کے دوران انہوں نے مختلف عالمی جامعات اور اداروں میں علمِ حدیث اور اسلامی علوم پر گرانقدر توسیعی خطبات دیے، جس کے باعث عالمی علمی افق بالخصوص عرب ممالک اور مغربی دنیا میں ان کی علمی صلاحیتوں کا لوہا مانا گیا۔
حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندویؒ کا بھٹکل سے بھی نہایت گہرا اور دیرینہ تعلق تھا۔ آپ نے مختلف مواقع پر بھٹکل کا دورہ فرمایا، جہاں اپنے علمی، فکری اور دعوتی خطابات سے اہلِ علم، طلبہ اور عوام کو مستفید فرمایا۔ بھٹکل کے دینی، تعلیمی اور سماجی اداروں سے آپ کی خصوصی وابستگی تھی اور یہاں کی علمی سرگرمیوں کی ہمیشہ حوصلہ افزائی فرماتے رہے۔
حضرت مولانا مرحوم کا فکروخبر سے بھی خصوصی تعلق رہا۔ آپ نے فکروخبر کی علمی، دینی اور صحافتی خدمات کو سراہا اور مختلف مواقع پر ادارے کی حوصلہ افزائی فرمائی۔ بالخصوص فکروخبر کی سہ سالہ تقریب میں آپ کی تشریف آوری ادارے کے لیے ایک یادگار موقع ثابت ہوئی، جہاں آپ کے فکر انگیز خطاب سے حاضرین نے بھرپور استفادہ کیا۔ فکروخبر کو آپ کے متعدد انٹرویوز، بیانات اور علمی رہنمائی شائع کرنے کا بھی شرف حاصل رہا۔ آپ کی رحلت نہ صرف ملتِ اسلامیہ بلکہ فکروخبر اور اہلِ بھٹکل کے لیے بھی ایک ناقابلِ تلافی علمی و فکری نقصان ہے۔
حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی کی زندگی علم، دعوت، تدریس، تصنیف اور ملت کی خدمت سے عبارت تھی۔ ان کی رحلت ایک خلا ضرور چھوڑ گئی ہے، لیکن ان کے علمی آثار، شاگردوں کی بڑی تعداد اور ان کی فکری و تعلیمی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنی رہیں گی۔
إنا لله وإنا إليه راجعون۔




