ملک میں بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے رجحان اور اس کے ساتھ ہی بڑھتے ہوئے آن لائن مالیاتی فراڈ کو روکنے کے لیے ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) ایک بڑا اور اہم ترین قدم اٹھانے کی تیاری کر رہا ہے۔ مرکزی بینک کی جانب سے پیش کردہ ایک نئی تجویز کے تحت اگر کوئی صارف، پروپرائٹر یا پارٹنرشپ فرم 10 ہزار روپے سے زیادہ کی آن لائن رقم منتقل کرتی ہے، تو اس ادائیگی کو مکمل ہونے میں ایک گھنٹے کا وقت لگ سکتا ہے۔ اس مخصوص دورانیے کو تکنیکی زبان میں ’کولنگ آف پیریڈ‘ کہا جاتا ہے۔ ملک کی بینکنگ انڈسٹری نے مجموعی طور پر اس حفاظتی اقدام کی حمایت کی ہے، تاہم اس کے ساتھ ہی عام شہریوں کی روزمرہ کی سہولیات اور نظام کو نافذ کرنے میں پیش آنے والی تکنیکی مشکلات پر گہری تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔
آر بی آئی نے ڈیجیٹل سیکورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے ایک مشاورتی دستاویز میں یہ مشورہ دیا ہے کہ 10 ہزار روپے سے زائد کے کسی بھی ڈیجیٹل لین دین کو حتمی شکل دینے سے پہلے ایک گھنٹے کا لازمی وقفہ دیا جائے۔ یہ تاخیر صرف پیسے بھیجنے والے کی سطح پر ہوگی۔ اس اصول کا بنیادی مقصد ‘آتھرائزڈ پُش پیمنٹ’ (اے پی پی) جیسے خطرناک فراڈ کو روکنا ہے، جس میں سائبر مجرم معصوم شہریوں کو ڈرا دھمکا کر یا جھانسہ دے کر فوری طور پر بڑی رقم اپنے بینک اکاؤنٹس میں ٹرانسفر کروا لیتے ہیں۔ بینکوں کا ماننا ہے کہ اس ایک گھنٹے کی تاخیر سے صارفین کو یہ سوچنے اور سنبھلنے کا موقع ملے گا کہ وہ صحیح جگہ پیسہ بھیج رہے ہیں یا نہیں۔
بینکنگ ماہرین کے مطابق اس اصول کو تمام حالات میں آنکھ بند کر کے نافذ نہیں کیا جانا چاہیے، بلکہ اس میں کچھ لچک ہونی چاہیے۔ تجویز کے مطابق اگر کوئی معمر صارف بڑی رقم ٹرانسفر کرتا ہے تو اس کے لیے پہلے سے مقرر کردہ ایک ’قابل اعتماد شخص‘ (جیسے بیٹا یا بیٹی) کی اضافی منظوری لازمی قرار دی جا سکتی ہے۔ اگر اس قابل اعتماد شخص کی پروفائل کو تبدیل کیا جاتا ہے، تو کسی بھی ممکنہ چوری یا دھوکہ دہی سے بچنے کے لیے 24 گھنٹے کا لازمی ’کولنگ آف پیریڈ‘ نافذ ہوگا۔ دوسری جانب بینکوں نے اس طریقہ کار کے عملی نفاذ میں حائل بڑے چیلنجوں کی نشاندہی بھی کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی بزرگ شہری ہسپتال یا کسی میڈیکل ایمرجنسی میں فوری ادائیگی کر رہا ہو اور نامزد کردہ شخص اس وقت دستیاب نہ ہو، تو حقیقی اور ضروری ادائیگی میں تاخیر کسی بڑی پریشانی کا سبب بن سکتی ہے۔
اس نئے حفاظتی نظام کو اپنانے کے لیے بینکوں کو اپنے موجودہ ڈیجیٹل پیمنٹ انفراسٹرکچر میں بنیادی اور ڈھانچہ جاتی تبدیلیاں کرنی ہوں گی۔ بینکوں کو نئے لین دین کے لیے الگ سے قطاریں بنانی ہوں گی، کولنگ آف ونڈو کے دوران صارفین کو ٹرانزیکشن منسوخ کرنے کا آپشن فراہم کرنا ہوگا اور سیٹلمنٹ کے پورے نظام کو نئے سرے سے کوڈ کرنا پڑے گا، جس پر بھاری لاگت آنے کا امکان ہے۔ یہ تشویش اس وقت مزید سنگین ہو جاتی ہے جب ہندوستانی بینک پہلے ہی یو پی آئی پر زیرو مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (ایم ڈی آر) کی وجہ سے شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں، کیونکہ انہیں تاجروں سے یو پی آئی ٹرانزیکشن پر کوئی فیس لینے کی اجازت نہیں ہے۔
ہندوستان کا ڈیجیٹل پیمنٹ ایکو سسٹم دنیا بھر میں اپنی تیز ترین رفتار اور وسعت کے لیے مانا جاتا ہے۔ آر بی آئی نے برطانیہ، سنگاپور، سویڈن اور امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک کے عالمی تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ خاکہ تیار کیا ہے، لیکن ہندوستانی بینکوں کا اصرار ہے کہ ان قوانین کو حتمی شکل دیتے وقت ملک کے زمینی حقائق اور غریب و متوسط طبقے کی ضروریات کا خاص خیال رکھا جائے۔ فی الحال مرکزی بینک نے تمام شراکت داروں اور اسٹیک ہولڈرز سے اس معاملے پر تفصیلی رائے طلب کی ہے، اور توقع ہے کہ حتمی رہنما خطوط ڈیجیٹل سیکورٹی اور صارفین کی سہولت کے درمیان بہترین توازن قائم کریں گے۔




