شہریتی قانون میں ترمیم ناگزیر، ہر سچے ہندوستانی شہری کو آئینی تحفظ دیا جائے: ایس ڈی پی آئی صدر ایم کے فیضی

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے قومی صدر ایم کے فیضی نے ملک میں شہریت کو لے کر پیدا شدہ حالیہ غیر یقینی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شہریتی قانون (سٹیزن شپ ایکٹ) 1955ء میں ایک جامع اور فوری ترمیم کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ قانونی ڈھانچے کی خامیوں اور بیوروکریٹک پیچیدگیوں کی وجہ سے کروڑوں سچے اور نسلی ہندوستانی شہریوں کو اپنی ہی شہریت کے حوالے سے شدید عدم تحفظ اور خوف کے سائے میں جینے پر مجبور کیا جا رہا ہے، جو کہ بنیادی انسانی اور آئینی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

نئی دہلی میں جاری کردہ ایک اہم بیان میں ایس ڈی پی آئی کے صدر نے مرکزی حکومت کے طرز عمل پر سخت سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ جب ایک عام ہندوستانی شہری کو حکومت کی جانب سے پاسپورٹ، ووٹر آئی ڈی کارڈ، پین کارڈ، راشن کارڈ اور برتھ سرٹیفکیٹ جیسے مستند سرکاری دستاویزات جاری کیے جاتے ہیں، تو پھر بھی اس کی شہریت کو شک و شبہ کی نظر سے کیوں دیکھا جاتا ہے؟ انہوں نے یاد دلایا کہ یہ تمام دستاویزات سرکاری اداروں کی جانب سے ووٹنگ، ٹیکسیشن، بینکنگ، تعلیم، روزگار، فلاحی اسکیموں کے حصول، سفر اور جائیداد کی خرید و فروخت کے لیے روزمرہ کی بنیاد پر قبول کیے جاتے ہیں، لیکن جب شہریت کو ثابت کرنے کا وقت آتا ہے تو ان کی قانونی حیثیت کو مبہم اور ناکافی قرار دے دیا جاتا ہے۔

ایم کے فیضی نے اس قانونی ابہام کے خطرناک سماجی و اقتصادی اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تکنیکی اعتراضات، طریقہ کار کی بے ضابطگیوں اور دستاویزات کے معمولی فرق کو بنیاد بنا کر غریب اور پسماندہ طبقات کو ہدف بنایا جا رہا ہے۔ اگرچہ اس کے خلاف ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ میں اپیل کے راستے موجود ہیں، لیکن ملک کے دیہی اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے کروڑوں غریب خاندانوں کے لیے اتنی مہنگی اور طویل قانونی لڑائی لڑنا مالی اور عملی طور پر بالکل ناممکن ہے۔ اصل مسئلہ شہریوں کے پاس دستاویزات کی کمی نہیں بلکہ شہریت کی تصدیق کے لیے ایک جامع، شفاف اور یکساں قانونی فریم ورک کا نہ ہونا ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے مرکزی حکومت کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ متنازعہ شہریتی ترمیمی قانون (سی اے اے)، شہریت کی بار بار تصدیق کی بحثوں اور حکمران جماعت بی جے پی کے سینیئر رہنماؤں کے بیانات نے معاشرے کے مخصوص طبقات، بالخصوص مسلم کمیونٹی کے اندر ایک شدید خوف اور بے چینی کی فضا پیدا کر دی ہے۔ ایک ذمہ دار حکومت کا کام اپنے شہریوں کو قانونی تحفظ فراہم کرنا اور ان کا اعتماد بحال کرنا ہوتا ہے، نہ کہ ان کے دلوں میں الجھن اور خوف پیدا کرنا۔ ہندوستان کی آزادی کے تقریباً آٹھ دہائیوں بعد بھی کسی سچے ہندوستانی کو شہریت کے بحران میں مبتلا رکھنا آئین کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔

ایس ڈی پی آئی کے سربراہ نے ملک بھر کے تمام اراکین پارلیمنٹ، اراکین اسمبلی اور ریاستی حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سیاسی مفادات اور جماعتی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر شہریتی قانون 1955ء میں ایک انسانی اور منصفانہ ترمیم کے لیے مشترکہ طور پر آواز اٹھائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پارلیمنٹ کو قانون میں واضح کرنا چاہیے کہ کون سے سرکاری دستاویزات شہریت کے حتمی ثبوت کے طور پر تسلیم کیے جائیں گے تاکہ ملک کا ہر شہری وقار اور ذہنی سکون کے ساتھ زندگی بسر کر سکے اور جمہوری اداروں پر عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔

شیئر کریں۔