مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے ضلع کھنڈوا کے بدھیاتولا گاؤں میں انتظامیہ کی جانب سے بڑے پیمانے پر کی جانے والی بلڈوزر کارروائی پر سخت رخ اختیار کرتے ہوئے مجموعی طور پر ۳۸؍ مکانات کے انہدام پر فوری عبوری روک لگا دی ہے۔ عدالت عالیہ کا یہ فیصلہ مسلم سماجی حقوق کی تنظیم ‘ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس’ (اے پی سی آر) کی فوری اور مؤثر قانونی چارہ جوئی کے بعد سامنے آیا ہے، جس سے ان درجنوں خاندانوں کو بڑی قانونی راحت ملی ہے جن کے سروں سے چھت چھن جانے کا شدید خطرہ لاحق ہو گیا تھا۔
یہ پورا تنازعہ مدھیہ پردیش کے ضلع کھنڈوا کی ایتوا تحصیل کے تحت آنے والے بدھیاتولا گاؤں سے شروع ہوا، جہاں مبینہ طور پر مویشی ذبح کیے جانے کے ایک واقعے کے بعد پولیس نے ۹؍ مسلم افراد کے خلاف نامزد ایف آئی آر درج کی تھی۔ پولیس نے اس معاملے میں مرکزی ملزم سمیت تمام ملزمین کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی اور مرکزی ملزم پر قومی سلامتی قانون (این ایس اے) کے تحت بھی مقدمہ درج کر لیا۔ قانون کے مطابق کارروائی جاری ہونے کے باوجود بیس جون کو چند ہندوتوا تنظیموں کے کارکنان نے سڑکوں پر نکل کر منڈی ہائی وے کو بلاک کر دیا اور ملزمین کے خلاف ماورائے عدالت سخت ترین کارروائی کا مطالبہ شروع کر دیا۔
عوامی دباؤ کے بعد ضلع انتظامیہ نے قانون کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مبینہ طور پر گاؤں میں مسلم خاندانوں کے چند مکانات کو ’غیر قانونی تعمیرات‘ قرار دے کر بلڈوزر سے منہدم کر دیا اور بیک وقت درجنوں دیگر خاندانوں کو بھی مکانات خالی کرنے کے انہدام کے نوٹس جاری کر دیے۔ انتظامیہ کی اس یکطرفہ کارروائی اور مبینہ اجتماعی سزا کے خلاف متاثرہ خاندانوں نے اے پی سی آر سے رابطہ کیا، جس نے فوری طور پر مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی جبل پور بنچ میں عرضی دائر کی۔ ابتدائی سماعت میں عدالت نے چار مکانات کے تحفظ کا حکم دیا تھا، لیکن جب انتظامیہ نے مزید ۴۷؍ خاندانوں کو نوٹس تھما دیے تو تنظیم نے مزید ۳۴؍ متاثرین کی طرف سے رجوع کیا، جس پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے اب مجموعی طور پر ۳۸؍ مکانات کو مسمار کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔
ہائی کورٹ میں متاثرہ شہریوں کا مقدمہ سینئر ایڈوکیٹ کبیر پال، ایڈوکیٹ آریان اُرمالیہ اور ان کی قانونی ٹیم نے انتہائی مؤثر اور مضبوط انداز میں پیش کیا۔ انہوں نے عدالت کو مطلع کیا کہ کس طرح کسی جرم کی آڑ میں پورے خاندان کو نشانہ بنا کر آئینی حقوق کی پامالی کی جا رہی ہے۔ اے پی سی آر نے عدالتی فیصلے کے بعد اپنے اصولی موقف کو دہراتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی فوجداری مقدمے کی تحقیقات اور سزا مروجہ قوانین کے تحت ہونی چاہیے، لیکن آئینی تقاضوں اور قانونی طریقہ کار کو پورا کیے بغیر رہائشی مکانات پر بلڈوزر چلانا شہریوں کے بنیادی حقوق پر براہ راست حملہ اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں کے یکسر منافی ہے۔
قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے علمبرداروں نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلڈوزر کارروائیاں کبھی بھی عدالتی نظام کا متبادل نہیں ہو سکتیں اور نہ ہی کسی ایک شخص کے مبینہ جرم کی سزا اس کے پورے خاندان یا برادری کو دی جا سکتی ہے۔ اے پی سی آر نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ متاثرہ شہریوں کو نچلی عدالت سے لے کر اعلیٰ عدالت تک ہر ممکنہ مفت قانونی امداد فراہم کرتی رہے گی تاکہ انتظامیہ کے آمرانہ اور متعصبانہ اقدامات کا قانونی راستہ روکا جا سکے۔




