بھٹکل (فکروخبرنیوز) اسلامیہ اینگلو اردو ہائی اسکول کے عثمان حسن ہال میں 26 جون 2026ء بروز جمعہ صبح 11:30 بجے دینیات، لائبریری اور فزیکل ایجوکیشن کلبس کے زیرِ اہتمام مشترکہ افتتاحی پروگرام منعقد ہوا۔ پروگرام کا آغاز محمد فرزام ابن باوامیر جبالی کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ عبدالقادر نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کرکے حاضرین کے دل موہ لیے۔
اسکول کے صدرِ مدرس جناب نور محمد نے مہمانِ خصوصی کا خیرمقدم کیا، جبکہ ڈاکٹر عبدالحفیظ ندوی نے مہمانِ خصوصی مولانا عدنان قاضی ندوی (استاد جامعہ اسلامیہ بھٹکل) کا تعارف کیا۔
اپنے جامع خطاب میں مولانا عدنان قاضی ندوی نے ماہِ محرم الحرام کی فضیلت و اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ محرم اسلامی ہجری سال کا پہلا مہینہ ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف نسبت دیتے ہوئے "شہر اللہ المحرم” فرمایا ہے۔ اسی ماہ سے اسلامی سال کا آغاز ہوتا ہے اور حضرت عمر فاروقؓ کے دورِ خلافت میں ہجرتِ نبوی ﷺ کو بنیاد بنا کر اسلامی تقویم مرتب کی گئی۔
مولانا نے یومِ عاشوراء کی فضیلت بیان کرتے ہوئے کہا کہ دس محرم کا روزہ ابتدا میں فرض تھا، لیکن رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت کے بعد اسے سنت قرار دیا گیا۔ انہوں نے حدیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں بتایا کہ عاشوراء کے روزے کی برکت سے گزشتہ ایک سال کے صغیرہ گناہوں کی معافی کی امید کی جاتی ہے۔ آپ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہودیوں کو بھی اس دن روزہ رکھتے دیکھا۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی فرعون سے نجات کی شکرگزاری میں روزہ رکھتے ہیں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ہمارا تعلق زیادہ ہے” اور مسلمانوں کو نویں اور دسویں یا دسویں اور گیارہویں محرم کے روزے رکھنے کی ترغیب دی۔
مولانا نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے واقعے پر بھی مختصر روشنی ڈالی اور طلبہ کو دینی و اخلاقی تربیت کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ والدین، اساتذہ اور بزرگوں کا ادب و احترام کامیاب زندگی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ استاد روحانی باپ ہوتا ہے، اور وہ طلبہ جو علم کے ساتھ ادب و احترام کو اختیار کرتے ہیں، وہی معاشرے اور ملت کے لیے حقیقی سرمایہ ثابت ہوتے ہیں۔
انہوں نے طلبہ کو نصیحت کی کہ وہ حصولِ علم کے ساتھ عمل کو بھی اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک محض علم نہیں بلکہ اس پر عمل زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے گزشتہ سال دینیات کے امتحانات میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انعامات کو صرف اعزاز نہ سمجھیں بلکہ سیکھی ہوئی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کریں۔
خطاب کے بعد گزشتہ سال دینیات کے امتحانات میں ممتاز نمبرات حاصل کرنے والے طلبہ میں انعامات تقسیم کیے گئے۔ پروگرام کی نظامت ڈاکٹر عبدالحفیظ ندوی نے انجام دی، جبکہ آخر میں کلماتِ تشکر کے ساتھ یہ بابرکت نشست اختتام پذیر ہوئی۔




