کاروار (فکروخبر نیوز)کرناٹک اسٹیٹ مائنارٹیز کمیشن کے چیئرمین یو نثار احمد نے واضح کیا ہے کہ کمیشن ریاست میں مسلم، عیسائی، بدھ، جین، سکھ اور پارسی برادریوں کے مسائل حل کرنے اور ان کی ہمہ جہت ترقی کو یقینی بنانے کے لیے پوری طرح پابند عہد ہے۔ انہوں نے کاروار میں ضلع پنچایت ہال میں منعقدہ ایک خصوصی اجلاس کے دوران ضلع اتر کنڑا سے آئے ہوئے اقلیتی وفود کی شکایات اور مطالبات سننے کے بعد یہ بات کہی۔ چیئرمین نے افسران کو سخت لہجے میں وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر مقامی حکام اقلیتی برادری کے مسائل پر مثبت ردعمل ظاہر نہیں کریں گے تو کمیشن انہیں بنگلورو طلب کر کے براہِ راست نوٹس جاری کرے گا اور حکومت کو ضروری کارروائی کے لیے سفارشات بھیجے گا۔
یو نثار احمد نے اقلیتی نوجوانوں کے لیے ‘بڑی راحت’ کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ کمیشن کی آفیشل ویب سائٹ (www.kmc.gov.in) پر اب ہر 15 دن میں نیوی، پولیس، ایس ایس سی اور ریلوے سمیت تمام سرکاری محکموں کی ملازمتوں کے نوٹیفیکیشن اپ لوڈ کیے جا رہے ہیں۔ اگر بیروزگار نوجوان اس پورٹل پر رجسٹریشن کراتے ہیں، تو نوکریوں کی معلومات براہِ راست ان کے واٹس ایپ یا ای میل پر بھیجی جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ضلع اتر کنڑا سے 20 سے زائد طلبہ مسابقتی امتحانات کے لیے تیار ہوں، تو کمیشن بنگلورو کے ‘حج بھون’ میں ان کے لیے مفت رہائشی ٹریننگ کا انتظام کرے گا۔ اس کے علاوہ، سی-ڈیک (C-DAC) ادارے کے تعاون سے انجینئرنگ کے طلبہ کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI)، سائبر سیکیورٹی اور ڈرون ٹیکنالوجی جیسے جدید کورسز کے لیے 3 ماہ کی خصوصی ٹریننگ کا ایک ‘نیا فیصلہ’ لیا گیا ہے، جس کے بعد انہیں سرٹیفکیٹ دیے جائیں گے تاکہ ملٹی نیشنل کمپنیوں میں روزگار کے دروازے کھل سکیں۔
اجلاس کے دوران تعلیمی بیداری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر بچے کو کم از کم 10ویں جماعت تک پڑھانا والدین اور برادری کے رہنماؤں کی ذمہ داری ہے۔ اس عوامی سماعت میں بھٹکل کے وفد نے ایک اہم مسئلہ اٹھاتے ہوئے شکایت درج کرائی کہ بھٹکل بندر روڈ پر واقع کچھ دکانوں (گوڈانگڑی) میں مٹکا، غیر قانونی شراب اور دیگر ممنوعہ تمباکو مصنوعات کی فروخت جیسی غیر اخلاقی سرگرمیاں چل رہی ہیں، جن پر فوری روک لگائی جائے۔ اس کے علاوہ ضلع کے مختلف علاقوں سے آئے لوگوں نے مساجد، چرچ، قبرستان، اسکولوں، سڑکوں اور ڈرینیج سسٹم کی ترقی کے حوالے سے اپنے مطالبات پیش کیے۔ اجلاس میں کمیشن کے اسپیشل ڈیوٹی آفیسر مجیب اللہ جفاری، محکمہ بہبودِ اقلیت کے ضلعی افسر ستیش اور دیگر اعلیٰ حکام موجود تھے۔




