قوم پرستی کا دعویٰ ہے تو قانون کا احترام کریں: وزیر پریانک کھرگے کا آر ایس ایس سےرجسٹریشن، فنڈز اور ٹیکس کی تفصیلات عام کرنے کا مطالبہ

کرناٹک کے کابینی وزیر پریانک کھرگے نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت کو ایک تفصیلی خط لکھ کر تنظیم کے 100 سال مکمل ہونے پر مبارکباد پیش کی ہے، اور ساتھ ہی تنظیم کی قانونی حیثیت، مالیاتی شفافیت اور جوابدہی پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ 13 جون کو لکھے گئے اس دو صفحات پر مشتمل خط میں پریانک کھرگے نے مطالبہ کیا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر کام کرنے والی تنظیم کو ملکی آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر اپنی تفصیلات عام کرنا چاہئیں۔

پریانک کھرگے، جو کرناٹک حکومت میں داخلہ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، بائیو ٹیکنالوجی اور ای-گورننس کے وزیر ہیں، نے آر ایس ایس کی سالانہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ ملک اور بیرون ملک اس کی 60 ہزار سے زائد شاکھائیں اور کروڑوں سویم سیوک موجود ہیں۔ خود کرناٹک میں تنظیم کا نیٹ ورک انتہائی وسیع ہے، جہاں چار ہزار سے زائد روزانہ کی شاکھائیں، تیرہ سو سے زیادہ ہفتہ وار ملن اور متعدد ماہانہ اجتماعات منعقد ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر عوامی مہمات اور روٹ مارچ بھی نکالے جاتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اتنی بڑی عوامی رسائی اور اثر و رسوخ رکھنے والی تنظیم کسی قانونی ادارے یا سوسائٹی کے طور پر باقاعدہ رجسٹرڈ کیوں نہیں ہے اور وہ کس بنیاد پر بغیر کسی قانونی جوابدہی کے کام کر رہی ہے۔

خط میں کانگریس رہنما نے آر ایس ایس کی قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ چند اہم نکات پر عوامی سطح پر وضاحت جاری کرے۔ ان سوالات میں تنظیم کی قانونی اور تنظیمی حیثیت، ذمہ دار عہدیداروں اور مجاز نمائندوں کے نام، عطیات اور آمدنی کے ذرائع، اخراجات اور اثاثوں کی تفصیلات، اور ٹیکس قوانین کی تعمیل شامل ہے۔ کھرگے کا مؤقف ہے کہ ایک آئینی جمہوریت میں عوامی زندگی میں سرگرم ہر ادارے، چاہے وہ چیریٹیبل ٹرسٹ ہو، این جی او، سوسائٹی، کمپنی یا کوئی مذہبی ادارہ، سب کے لیے اپنے مالی معاملات اور سرگرمیوں کو ظاہر کرنا لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو تنظیم مسلسل قوم پرستی، ڈسپلن اور فرض شناسی کی بات کرتی ہے، اسے ملک کے آئین اور قوانین کا احترام کرتے ہوئے خود بھی ان اقدار کا عملی مظاہرہ کرنا چاہیے۔

پریانک کھرگے کا یہ قدم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آر ایس ایس اپنی صد سالہ تقریبات منا رہی ہے، اور اس خط نے کانگریس اور بی جے پی-آر ایس ایس کے درمیان سیاسی بحث کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔ ملک کے سیکولر طبقات اور اقلیتی برادریاں طویل عرصے سے دائیں بازو کی اس تنظیم کی سرگرمیوں، فنڈنگ اور عوامی مقامات پر بغیر اجازت لاٹھیوں کے ساتھ کیے جانے والے مارچز پر تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، اس خط کے ذریعے کانگریس نے براہ راست آر ایس ایس کے اس بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے جس کے تحت وہ دہائیوں سے بغیر کسی رجسٹریشن یا حکومتی آڈٹ کے کام کر رہی ہے۔

دستیاب رپورٹوں کے مطابق، اس خط کے سامنے آنے کے بعد تاحال آر ایس ایس کی مرکزی قیادت کی طرف سے کوئی باضابطہ یا تحریری جواب سامنے نہیں آیا ہے، تاہم دائیں بازو کے حلقوں میں اس پر شدید ردِعمل دیکھا جا رہا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ کرناٹک حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے یہ سوالات آنے والے دنوں میں آر ایس ایس کی سرگرمیوں کے لیے نئے ضوابط یا رجسٹریشن کے قوانین کی تیاری کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ کانگریس اس معاملے کو آئینی بالادستی اور یکساں قوانین کے نفاذ کے طور پر پیش کر رہی ہے، جس سے ریاست اور مرکز کی سیاست میں مزید تلخی بڑھنے کا امکان ہے۔

وزیر موصوف نے اپنے خط کے آخر میں لکھا ہے کہ آر ایس ایس کو اپنے 100 سالہ سفر کے اس موقع پر آئینی خود احتسابی کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق، ہندوستان کو اس کی صد سالہ سالگرہ پر سب سے بہترین تحفہ یہ ہو سکتا ہے کہ تنظیم خود کو قانون کے تحت رجسٹر کروائے، اپنے مالیاتی امور کو شفاف بنائے، تمام واجب الادا ٹیکس ادا کرے، اور ملک کے آئینی فریم ورک کے اندر رہ کر ایک جوابدہ ادارے کے طور پر کام کرے۔

شیئر کریں۔