بھٹکل میں میڈیا اور سوشیل میڈیا سے وابستہ افراد کے لیے خصوصی نشست
بھٹکل (فکروخبرنیوز) رابطہ سوسائٹی آفس بھٹکل میں بھٹکل مسلم خلیج کونسل کے سکریٹری جنرل جناب عتیق الرحمن منیری کی دعوت پر میڈیا اور سوشل میڈیا سے وابستہ افراد کے اعزاز میں ایک خصوصی نشست منعقد ہوئی، جس میں شہر کے مختلف اخبارات، ویب سائٹس، یوٹیوب چینلز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ نشست کا آغازتلاوت کلام پاک سے ہوا جس کے بعد ہر فرد نے اپنے میڈیا سے متعلق کاموں اور خدمات کا مختصر تعارف پیش کیا۔
اس موقع پر جناب عتیق الرحمن منیری نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں میڈیا زندگی کے ہر شعبہ پر اثر انداز ہو رہا ہے اور اس کے بغیر کسی بھی پیغام کو وسیع پیمانے پر پہنچانا تقریباً ناممکن ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ میڈیا اور سوشل میڈیا سے وابستہ افراد ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے منظم انداز میں کام کریں تاکہ کم وقت میں زیادہ اور مؤثر خدمات انجام دی جاسکیں۔ انہوں نے بتایا کہ پہلی مرتبہ شہر کے مختلف میڈیا پلیٹ فارمز سے وابستہ افراد کو ایک جگہ جمع کرکے تبادلۂ خیال کا موقع فراہم کیا گیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی خلیج کونسل کی جانب سے مختلف طبقات کے ساتھ خیرسگالی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا اور میڈیا سے وابستہ افراد کے ساتھ مستقل رابطے اور تعاون کے لیے ایک منظم لائحۂ عمل تیار کیا جائے گا۔
نشست سے خطاب کرتے ہوئے فکروخبر کے ایڈیٹر اِن چیف مولانا سید ہاشم نظام ندوی نے میڈیا کی اہمیت، اس کے مثبت استعمال اور عصر حاضر میں اس کی ناگزیر افادیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ کا مطالعہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام نے اپنی دعوت اور اصلاحی مشن کی تکمیل کے لیے اپنے اپنے زمانے کے مؤثر ذرائع اختیار کیے۔ ہر دور میں جو ذریعہ ابلاغ سب سے زیادہ مؤثر اور طاقتور تھا، اسے حق کی دعوت پہنچانے کے لیے استعمال کیا گیا۔
مولانا نے سیرتِ نبویؐ کی مختلف مثالیں پیش کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے بھی اپنے دور کے دستیاب ذرائع ابلاغ کو دعوتِ دین کے لیے استعمال فرمایا۔ مختلف قبائل تک رسائی، خطوط کے ذریعے بادشاہوں اور حکمرانوں تک پیغام پہنچانا اور عوامی اجتماعات میں دعوت پیش کرنا دراصل اس زمانے کے مؤثر میڈیا ذرائع تھے۔ اس سے امت کو یہ رہنمائی ملتی ہے کہ ہر دور میں دستیاب اور مؤثر ذرائع کو خیر، اصلاح اور دعوت کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بعض اوقات لوگ نئے ذرائع اور جدید تقاضوں کو قبول کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ زمانے کی رفتار سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو افراد اور ادارے وقت کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے جدید وسائل کو اپناتے ہیں، وہی معاشرے میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی نئے کام کے آغاز میں کمزوریاں اور خامیاں ہونا فطری امر ہے، لیکن مستقل مزاجی، اخلاص اور اصلاح کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھنے والے لوگ ہی کامیابی حاصل کرتے ہیں۔
مولانا سید ہاشم ندوی نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ میڈیا کے استعمال کو صرف مقامی یا علاقائی سطح تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ پوری دنیا کو سامنے رکھتے ہوئے کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آج ڈیجیٹل ذرائع نے دنیا کو ایک عالمی گاؤں میں تبدیل کردیا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ نوجوان مختلف زبانوں میں مہارت حاصل کریں تاکہ وہ اپنی بات عالمی سطح پر بہتر انداز میں پیش کرسکیں۔ انہوں نے میڈیا سے وابستہ افراد کو باہمی تعاون، مثبت سوچ اور مشترکہ مقاصد کے تحت کام کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہر شخص دوسرے کے کام میں معاون بنے تو ملت اور معاشرے کو اس کے بہتر نتائج حاصل ہوسکتے ہیں۔
رفیقِ فکروخبر مولانا مفتی عبدالنور فکردے ندوی نے میڈیا کو شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے استعمال کرنے اور اسے اصلاحِ معاشرہ کا مؤثر ذریعہ بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ سینئر صحافی ڈاکٹر حنیف شباب نے صحافت کے مختلف ادوار کا تذکرہ کرتے ہوئے بدلتے ہوئے حالات کے مطابق میڈیا کو ترقی دینے کی ضرورت بیان کی جبکہ بھٹکل نیوز کے ایڈیٹر جناب عتیق الرحمن شاہ بندری نے بھٹکل کی صحافتی تاریخ پر روشنی ڈالی۔
نشست میں خصوصی طور پر پچاس سال سے صحافتی خدمات انجام دینے والے نقشِ نوائط کے مالک مولانا عبدالعلیم قاسمی اور بھٹکلیس کے بانی جناب محسن شاہ بندری المعروف "کمپیوٹر محسن” کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ ان کی ویب سائٹ پر 1945ء سے شہر کے متعدد ممتاز علماء، دانشوروں اور اہم شخصیات کی نایاب صوتی ریکارڈنگز محفوظ ہیں، جو ایک قیمتی تاریخی سرمایہ ہیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں مولانا عبدالمتین منیری کی خدمات کو بھی سراہا اور کہا کہ کسی بھی بڑے کام کے لیے عزم، حوصلہ اور مستقل مزاجی بنیادی شرط ہے، جس کے بعد اللہ تعالیٰ کامیابی کے راستے آسان فرما دیتا ہے۔
نشست خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی، جہاں شرکاء نے مستقبل میں میڈیا اور سوشل میڈیا کے میدان میں باہمی تعاون، مثبت رابطے اور اجتماعی مفاد کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔




