ان کا انتقال پورے شہر کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان : مولانا خواجہ معین الدین ندوی مدنی
بھٹکل (فکروخبر نیوز) بھٹکل کی ممتاز سماجی، تعلیمی اور طبی شخصیت، بھٹکل ایجوکیشن ٹرسٹ (BET) کے صدر اور سینئر معالج ڈاکٹر سریش وی. نایک (84) کا اتوار کی صبح منگلورو کے ایک نجی اسپتال میں انتقال ہو گیا۔ ان کی وفات کی خبر پھیلتے ہی بھٹکل اور اطراف کے تعلیمی، سماجی، مذہبی اور طبی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی۔
ڈاکٹر سریش نایک نے اپنی زندگی کے تقریباً 55 سال بھٹکل ایجوکیشن ٹرسٹ کی ترقی، استحکام اور فروغ کے لیے وقف کیے۔ ان کی دور اندیش قیادت اور مسلسل محنت کے نتیجے میں ایک محدود تعلیمی ادارے کے طور پر قائم ہونے والا ٹرسٹ آج سات تعلیمی اداروں پر مشتمل ایک مضبوط تعلیمی نیٹ ورک بن چکا ہے، جہاں ساڑھے تین ہزار سے زائد طلبہ زیورِ تعلیم سے آراستہ ہو رہے ہیں۔
تعلیمی خدمات کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر سریش نایک نے تقریباً پانچ دہائیوں تک معالج کی حیثیت سے بلا تفریق مذہب، ملت اور ذات کے عوام کی خدمت انجام دی۔ اپنی سادگی، خوش اخلاقی، انسان دوستی اور پیشہ ورانہ دیانت داری کی بدولت وہ بھٹکل کے تمام طبقات میں یکساں احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔
ان کی رحلت پر مختلف مذہبی، سماجی اور سیاسی شخصیات نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ قاضیِ مرکزی خلیفہ جامع مسجد بھٹکل حضرت مولانا خواجہ معین الدین اکرمی مدنی ندوی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ ڈاکٹر سریش نایک نے نصف صدی سے زیادہ عرصے تک بلا تفریق انسانیت کی خدمت کی اور مذہبی رواداری، باہمی احترام اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کا انتقال پورے شہر کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔
مجلسِ اصلاح و تنظیم بھٹکل کے صدر جناب عنایت اللہ شاہ بندری اور جنرل سکریٹری مولانا عزیز الرحمن رکن الدین ندوی نے مشترکہ تعزیتی بیان میں کہا کہ ڈاکٹر سریش نایک نے نہ صرف تعلیمی میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں بلکہ سماجی اتحاد، باہمی بھائی چارے اور خیر خواہی کے فروغ میں بھی ہمیشہ نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کے نزدیک مرحوم کی شخصیت آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔
اس کے علاوہ بھٹکل کے رکنِ اسمبلی منکال بائیدیا، ناگرک ہت رکشنا ویدیکے کے صدر ستیش کمار نایک، سدبھاؤنا منچ کے سکریٹری ایم آر مانوی اور متعدد سماجی، سیاسی و تعلیمی شخصیات نے بھی ڈاکٹر سریش نایک کی وفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کی علمی، طبی اور سماجی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔




