کاروار (فکروخبر نیوز) ضلع اترا کنڑ میں جعلی ڈاکٹروں اور غیر قانونی طور پر علاج و معالجہ کرنے والے افراد کے خلاف ضلعی انتظامیہ نے سخت کارروائی کا انتباہ جاری کیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر کے لکشمی پریا نے واضح کیا ہے کہ بغیر قانونی سند اور اجازت نامے کے طبی خدمات انجام دینے والوں کے خلاف بلا امتیاز سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ محکمہ صحت کے افسران کو ہدایت دی کہ جعلی معالجین سے متعلق موصول ہونے والی ہر شکایت کی مکمل اور غیر جانبدارانہ جانچ کی جائے۔
کاروار میں منعقدہ کرناٹک پرائیویٹ میڈیکل اسٹیبلشمنٹ (KPME) رجسٹریشن اینڈ گریونس ریڈریسل اتھارٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ ضلع میں جعلی ڈاکٹروں اورغیر قانونی کلینکس کی نشاندہی کے لیے خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی جا چکی ہے۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ بغیر اجازت چلنے والے کلینکس کو فوری طور پر سیل کیا جائے، متعلقہ افراد پر جرمانے عائد کیے جائیں اور ضرورت پڑنے پر ان کے خلاف فوجداری مقدمات بھی درج کیے جائیں۔
ڈپٹی کمشنر نے اس بات پر زور دیا کہ صرف رجسٹرڈ اور مجاز طبیبوں کو ہی مریضوں کا علاج کرنے اور ادویات فراہم کرنے کی اجازت ہے جبکہ عوام سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ علاج کے لیے صرف مستند اور رجسٹرڈ ڈاکٹروں سے ہی رجوع کریں۔
اجلاس میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق، اپریل 2026 سے اب تک کے پی ایم ای ایکٹ کی خلاف ورزی پر ضلع میں 7 جعلی ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان کے کلینکس سیل کیے گئے ہیں، جبکہ 1 لاکھ 45 ہزار روپے کا جرمانہ بھی وصول کیا گیا ہے۔
اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ اینڈ فیملی ویلفیئر آفیسر ڈاکٹر سنجے دوڈامنی، ڈسٹرکٹ آیوش آفیسر ڈاکٹر جگدیش یاجی، انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن (IMA) کے نمائندے اور دیگر متعلقہ افسران بھی شریک تھے۔




