مکہ مکرمہ/ میدانِ عرفات (27 مئی 2026): حج 2026 کے سب سے مقدس اور مرکزی رکن ‘وقوفِ عرفہ’ کی ادائیگی کے لیے دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں عازمینِ حج کا روح پرور منظرنے ایمان کو تازگی بخشی۔ اس عظیم الشان موقع پر مسجدِ نبویؐ کے مایہ ناز امام و خطیب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر علی الحذیفی نے میدانِ عرفات کی تاریخی مسجدِ نمرہ میں خطبۂ حج دینے کی سعادت حاصل کی۔ اپنے ایمان افروز خطبے میں انہوں نے امتِ مسلمہ کو تقویٰ، توحید اور اخلاقیات کا ابدی پیغام دیا۔
سعودی عرب کے وقت کے مطابق منگل کو منیٰ میں رات کے قیام کے بعد عازمینِ حج کا قافلہ لبیک کی صداؤں کے ساتھ میدانِ عرفات پہنچا۔ جہاں ہر طرف تسبیح و تمجید کی صدائیں گونج رہی ہیں، ہاتھ بارگاہِ الٰہی میں بلند ہیں اور لاکھوں آنکھیں اپنے گناہوں کی معافی کے لیے بھیگی ہوئی ہیں۔
مسجدِ نمرہ سے خطبہِ حج دیتے ہوئے شیخ ڈاکٹر علی الحذیفی نے فرمایا کہ تقویٰ اختیار کرنا ہی ایمان والوں کی اصل شان ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو پکارتے ہوئے کہا، "اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، تقویٰ اختیار کرو اور اپنے عہد کی پاسداری کرو۔” انہوں نے توحید کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قیامت کا زلزلہ انتہائی شدید ہے اور آخرت کی سب سے بڑی کامیابی صرف اور صرف توحید پر قائم رہنے میں ہے۔ جو لوگ شرک و کفر کی راہ اپناتے ہیں، وہ ایسی چیزوں کو پکارتے ہیں جو کسی نفع یا نقصان کا اختیار نہیں رکھتیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے، اس کے لیے ربِ کریم نے دُہری جنت کا وعدہ فرما رکھا ہے، اور اللہ صبر کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔
خطبہِ حج کے دوران شیخ علی الحذیفی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حج کے لیے منادی کا حکم دیا تھا اور وعدہ کیا تھا کہ وہ اس آواز کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچائیں گے۔ آج دنیا بھر سے مختلف رنگ، نسل اور زبانوں سے تعلق رکھنے والے لوگ یہاں جمع ہیں، جو اللہ کی قدرت کا ایک بہت بڑا مظہر ہے۔ انہوں نے حجاج کو تاکید کی کہ اس مقدس سرزمین پر جھگڑے اور گناہ کے کاموں سے مکمل گریز کریں، ہمیشہ سچ بولیں، غلط بیانی، بدعت اور غیبت جیسی برائیوں سے دور رہیں۔
مناسکِ حج کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عازمین یہاں قیام کے بعد اگلے مرحلے میں مزدلفہ جائیں گے اور پھر منیٰ تشریف لے جائیں گے، جہاں حجاج کو کثرت سے اللہ کا ذکر کرنا ہے۔ انہوں نے عازمین کو ہدایت کی کہ وہ منیٰ میں 11 اور 12 ذی الحجہ کی راتیں گزاریں اور اپنے وطن لوٹنے سے پہلے طوافِ وداع کریں۔ خطبے کے اختتام پر انہوں نے امتِ مسلمہ اور حجاج کے لیے رقت آمیز دعا کی کہ یا اللہ! تمام عازمین کو باحفاظت اور سلامتی کے ساتھ ان کے گھروں کو لوٹا، ان کے دلوں میں حق کو جمع کر دے اور ان کے مناسک کو قبول فرما۔
خطبہِ حج کی تکمیل کے بعد عازمینِ حج نے سنتِ نبویؐ کے مطابق ظہر اور عصر کی نمازیں ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ جمع اور قصر کر کے ادا کیں۔ طے شدہ شیڈول کے مطابق، غروبِ آفتاب کے فوراً بعد حجاجِ کرام مزدلفہ کے لیے روانہ ہوں گے، جہاں وہ مغرب اور عشا کی نمازیں ایک ساتھ ادا کریں گے اور کھلے آسمان تلے رات گزارنے کے بعد اگلے مرحلے میں منیٰ جا کر رمی جمرات (شیطان کو کنکریاں مارنے) کا فریضہ انجام دیں گے۔




