امریکہ سے ایک انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ریاست اترا ہٹ (Utah) کے ویسٹ ویلی سٹی میں واقع ‘ویلی فیئر مال’ کے اندر ایک سرپھرے سفید فام نسل پرست نے بھارتی شہریت رکھنے والے مسلم نوجوان پر خنجر سے پے در پے 15 وار کر کے اسے شدید زخمی کر دیا۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق یہ بہیمانہ حملہ پیر کی دوپہر کو اس وقت پیش آیا جب مال میں موجود ایک کیوسک (کاؤنٹر) پر کام کرنے والے 48 سالہ بھارتی شہری سید سہیل الدین معمول کے مطابق اپنی ڈیوٹی پر موجود تھے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے پہلے نوجوان سے اس کا نام اور مذہب پوچھا اور پھر پانی کی بوتل مانگی، جیسے ہی سہیل الدین پانی لینے کے لیے مڑے، ملزم نے ان پر چاقو سے وحشیانہ حملہ کر دیا۔
حملے کی زد میں آ کر سید سہیل الدین شدید طور پر زخمی ہو گئے اور انہیں فوری طور پر مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت بدستور تشویشناک بنی ہوئی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق خنجر کے وار سے ان کے دل، پھیپھڑوں اور ہاتھوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور ان کی جان بچانے کے لیے متعدد سرجریز کی جا چکی ہیں۔ جائے وقوعہ پر موجود بہادر شہریوں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو موقع پر ہی دبوچ لیا اور پولیس کے پہنچنے تک اسے قابو میں رکھا۔ سوشل میڈیا پر اس واقعے کے بعد کی کچھ ویڈیوز بھی وائرل ہو رہی ہیں جن میں شہریوں کو ملزم کو پکڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 48 سالہ سفید فام ملزم پیٹر مائیکل لارسن کو گرفتار کر لیا ہے۔ تفتیشی حکام کے سامنے ملزم نے اعتراف کیا ہے کہ وہ مسلمانوں سے نفرت کرتا ہے اور اس کا مقصد ‘مسلمانوں کو جان سے مارنا’ تھا۔ سالٹ لیک کاؤنٹی جیل کی انتظامیہ اور تفتیشی اداروں نے ملزم کو معاشرے کے لیے ایک انتہائی سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ مقامی میڈیا اور امریکی رپورٹس کے مطابق ملزم مبینہ طور پر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کٹر حامی ہے اور اس کے نظریات میں تارکین وطن اور اقلیتوں کے خلاف شدید تعصب پایا جاتا ہے۔
امریکہ میں حالیہ مہینوں کے دوران مسلمانوں اور مساجد پر حملوں میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ اس سے قبل مئی کے مہینے میں کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو کے ایک اسلامک سینٹر میں دو گورے نوعمر لڑکوں نے فائرنگ کر کے تین افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا اور بعد میں خود کو بھی گولی مار لی تھی۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور مسلم نمائندوں کا کہنا ہے کہ سیاسی فائدے کے لیے اقلیتوں کے خلاف استعمال ہونے والی زبان مغربی ممالک میں مسلم کمیونٹی کے لیے زندگی کا سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے، جس کے نتیجے میں معصوم شہریوں کو عوامی مقامات پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
امریکہ میں مسلمانوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی سب سے بڑی تنظیم ‘کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز’ (CAIR) نے اس واقعے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ تنظیم کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ ہولناک حملہ اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ مسلم مخالف بیانیہ اور اسلاموفوبیا صرف لفظی حد تک محدود نہیں رہے، بلکہ اب ان کے زمین پر حقیقی اور ہلاکت خیز نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ مسلم رہنماؤں نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مساجد، کاروباری مراکز اور مسلم شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور سخت قانونی اقدامات کرے۔




