بھٹکل (فکروخبر نیوز) بھٹکل کے جالی پٹن پنچایت حدود کے وین کٹاپور گاؤں میں قومی شاہراہ 66 سے متصل تاریخی ‘مورین کٹے’ (Moorin Katte) کے انہدام اور اس کی دوبارہ تعمیر کی کوششوں کو لے کر پولیس نے ایک بڑی کارروائی انجام دی ہے۔ موصولہ ایف آئی آر کی تفصیلات کے مطابق، 24 مئی 2026 کو نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا (NHAI) کی جانب سے شاہراہ کی توسیع کے کاموں کے دوران اس متنازعہ ڈھانچے کو وہاں سے ہٹا دیا گیا تھا، جس کی منتقلی کو لے کر ہندو اور مسلم برادری کے رہنماؤں کے درمیان اختلافات چل رہے تھے۔ اسی دن صبح تحصیلدار اور انتظامیہ کی جانب سے نشان زدہ کی گئی 10×10 کی جگہ پر کچھ لوگوں نے دوبارہ ایک چبوترے (گول دیوار) کی تعمیر شروع کر دی۔ اس پر مسلم برادری کے ذمہ داران اور مقامی لوگوں نے جائے وقوع پر پہنچ کر اعتراض ظاہر کیا کہ یہ ایک متنازعہ جگہ ہے، جس کے بعد تعمیراتی کام کو روک کر اس چبوترے کو منہدم کر دیا گیا تھا۔
اس واقعے کے بعد، 24 مئی کی رات تقریباً 10:30 بجے ملزمان نے ایک غیر قانونی ہجوم کی شکل میں بھٹکل شہر پولیس تھانے کے احاطے میں گھس کر شدید احتجاج کیا۔ مظاہرین نے پولیس انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی اور یہ اعلان کیا کہ وہ موری کٹے کو اسی جگہ پر دوبارہ تعمیر کریں گے۔ پولیس تھانے کے سامنے ہنگامہ آرائی کرنے، امن و امان میں خلل ڈالنے اور عوام کے لیے پریشانی کھڑی کرنے کی پاداش میں پی ایس آئی تھپیا ایس کی شکایت پر بھٹکل شہر پولیس نے ملزمان کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) 2023 کی دفعات 189(2)، 292، اور 190 کے ساتھ ساتھ کرناٹک پولیس ایکٹ 1963 کی دفعہ 35(1)(e) کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس نے معاملے کی باقاعدہ تفتیش شروع کر دی ہے۔




