پروگرام میں ڈاکٹر عبدالحفیظ خان ندوی کی تہنیت ۔ خوبصورت طرحی مشاعرہ کا انعقاد
بھٹکل (فکرو خبر/پریس ریلیز)مشاعرے ہماری تہذیبی روایات کا حصہ ہیں، طرحی مشاعروں میں بالخصوص شعراء کی سوچ اور ان کی فکر کا بخوبی اندازہ لگایا جاتا ہے،ایک مصرع پر مختلف شعراء کے سوچنے کا انداز سامنے آتا ہے۔ بھٹکل کی مدینہ ویلفیئر سوسائٹی کے ہال میں منعقد محفل شعر و ادب کے طرحی مشاعرے میں مہمان خصوصی کے طور پر شریک جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے مہتمم مولانا مقبول احمد کوبٹے ندوی نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا، مولانا نے محفل شعر و ادب کے ذریعے انجام دی جانے والی ادبی سرگرمیوں کی سراہنا کی اور اسے بھٹکل کے ادبی ماحول کے لیے ایک بڑا قیمتی سرمایہ قرار دیا۔ابتدائی گفتگو میں مشاعرے کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے محفل شعر و ادب کے ذمہ دار مولانا سید احمد سالک ندوی نے اپنی سرگرمیوں کا تعارف کرایا اور نوجوان شعراء کی بڑی تعداد میں شرکت پر خوشی کا اظہار کیا۔انہوں نے اپنی گفتگو میں کہا کہ آج کی یہ شعری نشست دو حصوں پر مشتمل ہوگی، ایک حصہ میں طرحی مشاعرہ ہوگا،دوسرا حصہ تہنیتی پروگرام کا ہوگا۔ جس میں محفل شعر و ادب کے ایک خیر خواہ مولوی عبدالحفیظ خان ندوی کی تہنیت کی جائے گی۔ سید احمد سالک ندوی نے مزید کہا کہ موجودہ نسل اگر ادب کے حوالے سے، شاعری کے حوالے سے اپنی خدمات جاری رکھیں گی تو تہذیبی ورثے کی حفاظت میں ان کا ایک بڑا حصہ مانا جائے گا۔ اس کے بعد طرحی مشاعرے کا باقاعدہ آغاز کیا گیا جس میں بھٹکل کے کئی معروف شعراء نے اپنا کلام پیش کیا، اس مرتبہ اردو کے معروف شاعر رخشاں ابدالی کا ایک مصرع "کسی کی یاد ابھی تک دلِ تباہ میں ہے” بطورِ طرح دیا گیا تھا، جس پر طبع ازمائی کرتے ہوئے،جناب اقبال سعیدی، جناب ابن حسن، مولوی رائف کولا ندوی، جناب سہیل عرشی، مولوی شقران غازی ندوی، سید احمد سالک برماور ندوی، جناب عرفان جاسر اور محمد علی کولا صاحب سمیت جناب رحمت اللہ صاحب کا کلام بھی پیش کیاگیا۔مشاعرے کے بعد ڈاکٹر عبدالحفیظ خان ندوی کو جنوبی ہند کے اردو سفرناموں پر تحقیقی مقالہ لکھنے کی وجہ سے کوئی کوئمپو یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض کیے جانے پر محفل شعر و ادب کے پروگرام میں ان کی شال پوشی کرکے ان کی خدمت میں سپاس نامہ پیش کیا گیا، سپاس نامہ پیش کرتے ہوئے محفل کے نائب سیکرٹری مولوی بشار رکن الدین ندوی نے عبدالحفیظ ندوی کی خدمت میں نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے ان کی خدمت میں مبارک باد پیش کی۔اس موقع پر مولوی عبدالحفیظ ندوی نے بھی اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے اپنے علمی سفر کی روداد مختصرا بیان کی، ساتھ ہی انہوں نے محفل شعر و ادب کی شعری و ادبی سرگرمیوں کی بھی تعریف کی۔اس سے پہلے جامعہ اسلامیہ بھٹکل طالب علم سید حمدان برماور کی تلاوت سے محفل کا آغاز ہوا تھا، رات قریب 11 بجے مہمانوں کی خاطر تواضع کے ساتھ اور مولوی شقران کے کلمات تشکر پر یہ خوبصورت پروگرام اختتام کو پہنچا۔ اس پروگرام میں سامعین اور ادب نواز بڑی تعداد میں موجود تھے۔




