بنگلورو(فکروخبرنیوز) کرناٹک کے وزیرِ داخلہ جی پرمیشور کی جانب سے ٹمکورو (Tumakuru) ضلع کا نام تبدیل کر کے "بنگلور نارتھ” (Bengaluru North) رکھنے کی تازہ تجویز نے ریاست میں ایک نیا سیاسی اور عوامی تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ اپوزیشن لیڈروں، نامور ادیبوں اور عام عوام نے اس تجویز پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ضلع کی تاریخی شناخت کو مٹانے کی کوشش قرار دیا ہے، جبکہ بی جے پی رہنماؤں نے اس پر شدید طنزیہ اور مضحکہ خیز ردِعمل ظاہر کیا ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق 19 مئی کو ٹمکورو میں منعقدہ کانگریس کے ایک کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ جی پرمیشور نے کہا تھا کہ ٹمکورو، بنگلور سے محض 60 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور اس کی تیز رفتار شہری ترقی کو دیکھتے ہوئے اسے بنگلور کا حصہ تصور کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے دلیل دی کہ اگر اس کا نام بدل کر ‘بنگلور نارتھ’ رکھ دیا جائے تو اس سے ضلع کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر ایک نئی پہچان ملے گی، جس کی بدولت یہاں صنعتی ترقی ہوگی، بڑے انفراسٹرکچر پروجیکٹس آئیں گے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں مدد ملے گی۔ واضح رہے کہ کرناٹک حکومت کی جانب سے اضلاع کو بنگلور کے نام سے جوڑنے کی یہ کوئی پہلی کوشش نہیں ہے۔ گزشتہ سال ڈپٹی سی ایم ڈی کے شیوکمار کی نگرانی میں رام نگر ضلع کا نام بدل کر "بنگلور ساؤتھ” کیا جا چکا ہے، جبکہ بنگلور رورل کا نام بھی ‘بنگلور نارتھ’ کرنے کی تجویز پر غور چل رہا ہے، جسے مرکزی وزارتِ داخلہ کی منظوری کا انتظار ہے۔
پرمیشور کے اس بیان کے فوراً بعد ٹمکورو سے لوک سبھا ایم پی اور مرکزی وزیرِ مملکت وی سومنا، اور بی جے پی ایم ایل اے بی سوریش گوڈا نے اس کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ٹمکورو کی اپنی ایک بھرپور تاریخی، مذہبی اور ثقافتی شناخت ہے جسے کسی قیمت پر ہلکا یا ختم نہیں ہونے دیا جائے گا۔ نامور کنڑ ادیب باراگور رام چندرپا نے بھی اس پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ضلع کی منفرد وراثت کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ دوسری طرف، بنگلور سینٹرل سے بی جے پی ایم پی پی سی موہن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (X) پر کانگریس حکومت کا مضحکہ اڑاتے ہوئے طنز کیا کہ "ایسا لگتا ہے کانگریس حکومت پورے کرناٹک کا نام ہی بنگلور کے نام پر رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔" انہوں نے طنزاً کہا کہ اگر یہی رجحان رہا تو مستقبل میں منگلور کو ‘بنگلور بیچ فرنٹ’، کلبرگی کو ‘بنگلور فار ایسٹ’ اور کوڈاگو کو ‘بنگلور ہل اسٹیشن’ کہہ دیا جائے گا اور آخر کار پوری ریاست کا نام بدل کر "گریٹر بنگلور ایریا” رکھ دیا جائے گا۔ اس تجویز نے اب علاقائی شناخت، سیاست اور ترقی کے نام پر شہروں کے نام بدلنے کے کلچر پر ایک وسیع تر عوامی بحث کا روپ دھار لیا ہے۔




