کاروار (فکروخبر نیوز) ضلع اترا کنڑا کی ڈپٹی کمشنر لکشمی پریا نے مانسون کے پیشِ نظر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بارش کے دوران اسکولوں، کالجوں اور آنگن واڑی مراکز کے قریب ہونے والے کسی بھی ناخوشگوار واقعے یا حادثے کے لیے متعلقہ محکموں کے افسران براہِ راست ذمہ دار ٹھہرائے جائیں گے۔
بدھ کے روز ضلع کلکٹر دفتر میں منعقدہ ‘ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی’ کے اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے ضلع میں شدید بارش، سیلاب اور تودے گرنے (لینڈ سلائیڈنگ) جیسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کی جانے والی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ ڈی سی نے محکمہ تعلیم اور دیگر متعلقہ اداروں کو حکم دیا کہ تعلیمی اداروں کے قریب موجود بوسیدہ عمارتوں، خطرناک درختوں اور لٹکتی ہوئی بجلی کی تاروں کو فوری طور پر ہٹایا جائے اور عمارتوں کی حفاظت سے متعلق رپورٹ فی الفور جمع کرائی جائے۔
ہنگامی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے تمام تحصیلدار دفاتر اور شہری بلدیاتی اداروں کو 24 گھنٹے فعال رہنے والے کنٹرول روم قائم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اجلاس میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHAI) کو سخت لہجے میں کہا گیا کہ ضلع میں جاری سڑکوں کے تمام ادھورے کام، بشمول شیرور کے قریب جاری کاموں کو اسی ماہ کے آخر تک مکمل کیا جائے تاکہ بارش میں مسافروں کو دشواری نہ ہو۔
ڈی سی لکشمی پریا نے مزید کہا کہ ضلع کے تمام پلوں کے ستونوں کی مضبوطی کا معائنہ کر کے رپورٹ پیش کی جائے اور ندیوں و نالوں کی صفائی (Dredging) کا کام جلد مکمل کیا جائے تاکہ دیہاتوں میں سیلابی صورتحال پیدا نہ ہو۔ انہوں نے تمام سرکاری ملازمین کو ہدایت دی کہ وہ مانسون کے دوران اپنے ہیڈ کوارٹر میں ہی قیام کریں اور کسی بھی عوامی شکایت یا ہنگامی کال پر فوری ردعمل دیں۔
عوام کی سہولت کے لیے انتظامیہ نے ہنگامی ہیلپ لائن نمبر9483511015 بھی جاری کیا ہے جس پر کسی بھی وقت رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ اجلاس میں ڈپٹی کنزرویٹر آف فارسٹ شراون کمار، ضلع پنچایت سی ای او ڈاکٹر دلیش ششی (بذریعہ ویڈیو کانفرنس) اور دیگر اعلیٰ حکام موجود تھے۔



