قومی ایئرلائن ایئر انڈیا نے ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے اور مشرق وسطیٰ میں جاری شدید جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے پیش نظر ایک بڑا فیصلہ کیا ہے۔ ایئرلائن انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ ماہ جون سے اگست 2026 تک اپنے 29 اہم بین الاقوامی فضائی راستوں پر پروازوں کی تعداد میں نمایاں کمی کر رہی ہے۔ اس فیصلے کا مقصد آپریشنل اخراجات کو کنٹرول کرنا اور مسافروں کو آخری لمحات کی افراتفری سے بچا کر ایک مستحکم نیٹ ورک فراہم کرنا ہے۔
ایئرلائن کے ترجمان کے مطابق مغربی ایشیا میں جاری تنازعے کی وجہ سے کئی ممالک کی فضائی حدود (Airspace) بند ہیں، جس کے باعث طیاروں کو طویل راستے اختیار کرنے پڑ رہے ہیں۔ اس صورتحال نے جیٹ فیول کے استعمال اور اس کی قیمتوں کو ریکارڈ سطح پر پہنچا دیا ہے، جس سے کئی بین الاقوامی روٹس پر پروازیں چلانا تجارتی طور پر خسارے کا سودا بن گیا تھا۔ تاہم ایئر انڈیا نے واضح کیا ہے کہ ان تبدیلیوں کے باوجود وہ ماہانہ 1200 سے زائد بین الاقوامی پروازوں کا سلسلہ جاری رکھے گی تاکہ مسافروں کا عالمی رابطہ منقطع نہ ہو۔
متاثرہ روٹس کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے ایئر انڈیا نے بتایا کہ شمالی امریکہ، یورپ اور آسٹریلیا کے شیڈول میں سب سے زیادہ تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ دہلی سے شکاگو، نیوارک اور ممبئی سے نیویارک کی پروازیں عارضی طور پر معطل رہیں گی، جبکہ سان فرانسسکو، ٹورنٹو اور وینکوور کے لیے ہفتہ وار پروازوں کی تعداد کم کر دی گئی ہے۔ اسی طرح یورپ میں پیرس، میلان، ویانا اور روم جیسے اہم شہروں کے لیے بھی پروازوں کے پھیراؤ میں کٹوتی کی گئی ہے۔ آسٹریلیا کے لیے سڈنی اور میلبورن کی سروسز اب روزانہ کے بجائے ہفتے میں صرف چار دن دستیاب ہوں گی۔
ایئرلائن نے متاثرہ مسافروں کے لیے ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن مسافروں کی بکنگ منسوخ ہوئی ہے، انہیں متبادل پروازوں میں جگہ دی جائے گی۔ اس کے علاوہ متاثرہ مسافروں کو تاریخ کی تبدیلی کی مفت سہولت یا مکمل رقم کی واپسی (Refund) کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔ انتظامیہ نے مسافروں سے اپیل کی ہے کہ وہ سفر سے قبل ایئرلائن کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز یا کسٹمر کیئر سے رابطہ کر کے اپنی پرواز کی تازہ ترین صورتحال معلوم کر لیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ عالمی سطح پر ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور جنگی حالات ہوا بازی کی صنعت کے لیے ایک نیا چیلنج بن کر ابھرے ہیں۔ ایئر انڈیا کا یہ قدم دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہے تاکہ ایئرلائن کو بڑے مالی بحران سے بچایا جا سکے، لیکن اس سے گرمیوں کی چھٹیوں میں بیرون ملک سفر کرنے والے مسافروں کی مشکلات میں اضافہ ہونا یقینی ہے۔



