مغربی ایشیا میں جاری شدید جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے سائے اب ہندوستانی معیشت پر گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے گورنر سنجے ملہوترا نے ایک اہم بیان جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر خطے میں جاری تنازعہ طویل عرصے تک برقرار رہا تو بھارت میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو سکتا ہے۔ گورنر ملہوترا نے یہ بات سوئٹزرلینڈ میں منعقدہ ایک بین الاقوامی کانفرنس کے دوران کہی، جہاں انہوں نے عالمی معاشی حالات اور ہندوستان پر ان کے اثرات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔
گورنر ملہوترا کے مطابق فی الوقت حکومت ہند اور سرکاری تیل کمپنیاں خام تیل کی عالمی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کا بوجھ خود برداشت کر رہی ہیں تاکہ عام صارفین کو ریلیف مل سکے۔ حکومت نے ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کر رکھی ہے جبکہ تیل کمپنیاں نقصان کے باوجود قیمتوں کو مستحکم رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس صورتحال کو طویل مدت تک برقرار رکھنا تجارتی طور پر ممکن نہیں ہوگا۔ اگر سپلائی چین میں رکاوٹیں بڑھتی ہیں اور عالمی مارکیٹ میں تیل مزید مہنگا ہوتا ہے تو اس کا براہ راست بوجھ عوام کی جیب پر ڈالنا پڑے گا۔
اقتصادی اعداد و شمار بھی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کر رہے ہیں۔ اپریل 2026 میں ملک کی خوردہ مہنگائی کی شرح بڑھ کر 3.48 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو مارچ میں 3.40 فیصد تھی۔ اگرچہ یہ اضافہ اب تک قابو میں ہے، لیکن ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی اشیائے خوردونوش اور مال برداری کے اخراجات کو بڑھا کر مہنگائی کا نیا طوفان لا سکتا ہے۔ مغربی ایشیا میں فضائی حدود کی بندش اور سمندری راستوں میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں نے مال برداری کے اخراجات میں پہلے ہی اضافہ کر دیا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی بدلتے ہوئے معاشی حالات کے پیش نظر عوام سے غیر ضروری اخراجات کم کرنے اور ایندھن کی بچت کی اپیل کی ہے۔ حکومت کی جانب سے سونے کی درآمد پر ڈیوٹی میں اضافہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے تاکہ ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ آر بی آئی نے موجودہ مالی سال کے لیے ترقی کی شرح 6.9 فیصد رہنے کا اندازہ لگایا ہے، لیکن یہ تمام تخمینے عالمی امن اور تیل کی قیمتوں کے استحکام سے مشروط ہیں۔
آر بی آئی گورنر نے مزید کہا کہ مرکزی بینک ہر ماہ بدلتی ہوئی صورتحال کا گہرائی سے جائزہ لے رہا ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ اگر مہنگائی کا دباؤ بڑھا تو ریپو ریٹ اور دیگر مانیٹری پالیسی کے ٹولز کے ذریعے سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ مسلم اکثریتی علاقوں اور ترقی پذیر طبقات کے لیے یہ خبر خاصی اہم ہے، کیونکہ مہنگائی کا براہ راست اثر یومیہ اجرت پر کام کرنے والے اور متوسط طبقے کی قوتِ خرید پر پڑتا ہے۔




