سونے کی قیمتوں میں بھاری اضافہ ، مرکزی حکومت نے امپورٹ ڈیوٹی 6 سے بڑھاکر15 فیصدکردی

مغربی ایشیا میں بڑھتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی تناؤ اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر پڑنے والے دباؤ کے پیش نظر، مرکزی حکومت نے سونے اور چاندی کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ حکومت کے تازہ فیصلے کے مطابق، قیمتی دھاتوں پر درآمدی ڈیوٹی کو 6 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کر دیا گیا ہے، جس کا اطلاق بدھ 13 مئی سے ہو چکا ہے۔ اس فیصلے کے فوری بعد بھارتی صرافہ بازار میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں زبردست اچھال دیکھنے میں آیا ہے، جس نے خریداروں اور تاجروں دونوں کو حیران کر دیا ہے۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، نئی شرحوں میں 10 فیصد بنیادی کسٹم ڈیوٹی (BCD) اور 5 فیصد زرعی انفراسٹرکچر اینڈ ڈیولپمنٹ سیس (AIDC) شامل ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ملک سے باہر جانے والے زرمبادلہ کو روکنا اور تیزی سے گرتے ہوئے روپے کی قدر کو سہارا دینا ہے۔ واضح رہے کہ منگل کے روز بھارتی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں 95.63 کی تاریخی نچلی سطح پر آ گیا تھا، جس نے معاشی ماہرین کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی۔

درآمدی ڈیوٹی میں 9 فیصد کے اس بھاری اضافے کے بعد، 24 قیراط سونے کی قیمت میں فی تولہ (10 گرام) تقریباً 13,910 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ صرافہ بازار کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، اب 24 قیراط سونا 1,67,890 روپے فی تولہ کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اسی طرح 22 قیراط سونے کی قیمت بھی 1,53,900 روپے فی تولہ تک جا پہنچی ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتیں مستحکم ہونے کے باوجود بھارت میں یہ اضافہ خالصتاً سرکاری ٹیکسوں میں تبدیلی کا نتیجہ ہے۔

چاندی کی قیمتوں نے بھی تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ ملٹی کموڈٹی ایکسچینج (MCX) پر چاندی کی قیمت ایک بار پھر 3 لاکھ روپے فی کلوگرام کے ہندسے کو چھو گئی ہے۔ گزشتہ روز کے مقابلے چاندی کی قیمت میں تقریباً 18,000 روپے فی کلوگرام کا اضافہ ہوا ہے، جس سے زیورات کی صنعت اور صنعتی صارفین پر بوجھ مزید بڑھ گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیوٹی میں اضافے سے جہاں حکومت کو زرمبادلہ بچانے میں مدد ملے گی، وہی مارکیٹ میں سونے کی اسمگلنگ کے خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

یہ فیصلہ وزیر اعظم نریندر مودی کے اس بیان کے محض دو دن بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ مغربی ایشیا کے بحران کے دوران غیر ضروری اخراجات اور سونے کی خریداری سے پرہیز کریں۔ حکومت کا ماننا ہے کہ مالی سال 2025-26 میں سونے کی درآمدات کا 71.98 بلین ڈالر تک پہنچ جانا ملکی معیشت کے لیے چیلنج بن رہا ہے۔ چیف اکنامک ایڈوائزر وی اننتھا ناگیشورن نے بھی خبردار کیا ہے کہ موجودہ عالمی صورتحال بھارت کے لیے ‘بیلنس آف پیمنٹس’ کا دباؤ پیدا کر رہی ہے، جسے کنٹرول کرنا ناگزیر ہے۔

شیئر کریں۔