مسلم قیادت نے اتراکھنڈ حکومت کے مدرسہ بل کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ قائدین کا کہنا ہے کہ نصاب اور انتظام میں حکومتی مداخلت دفعہ 30 کی خلاف ورزی ہے جس کے خلاف سپریم کورٹ تک جنگ لڑی جائے گی۔
ہندوستان کی مقتدر ملی تنظیموں اور مذہبی قیادت نے اتراکھنڈ حکومت کی جانب سے مدارس کے حوالے سے پیش کیے گئے حالیہ بل کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے ملک کے آئین اور بنیادی حقوق کے خلاف ایک گہری سازش قرار دیا ہے۔ نئی دہلی میں جاری ایک اہم مشترکہ بیان میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، جمعیۃ علماء ہند، جماعت اسلامی ہند اور دیگر بڑی تنظیموں کے سربراہان نے واضح کیا ہے کہ آئین ہند کی دفعہ 25 اور 26 ہر شہری کو مذہبی آزادی فراہم کرتی ہے، جبکہ دفعہ 30 اقلیتوں کو اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور انہیں اپنی صوابدید کے مطابق چلانے کا مکمل اختیار دیتی ہے۔
مسلم قیادت نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتراکھنڈ حکومت کا نیا بل مدارس کو سرکاری تعلیمی بورڈ میں رجسٹریشن کے لیے مجبور کرتا ہے، جو کہ براہ راست مدارس کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے۔ اس قانون کے تحت اب حکومت یہ طے کرنا چاہتی ہے کہ مدارس میں مذہب سے متعلق کیا پڑھایا جائے گا اور کیا نہیں۔ قائدین کا کہنا ہے کہ نصاب کی تبدیلی اور حکومتی مداخلت کا یہ منصوبہ نہ صرف سیکولر ریاست کے تصور کے خلاف ہے بلکہ یہ مسلمانوں کو ان کی مذہبی شناخت سے محروم کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ دینی مدارس نے ملک کی جنگ آزادی سے لے کر تعمیر وطن تک ہر محاذ پر تاریخی کردار ادا کیا ہے اور ان کے حقوق کا تحفظ پوری ملت اسلامیہ کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ قیادت نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ نفرت انگیز سیاست کے ذریعے اقلیتوں کے حقوق کو نشانہ بنانا بند کیا جائے۔ اس وقت یہ معاملہ اتراکھنڈ ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے، تاہم قائدین نے واضح کر دیا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو مدارس کی آزادی اور آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے سپریم کورٹ کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا جائے گا۔
اس مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کرنے والوں میں صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی، صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی، مولانا محمود اسعد مدنی، مولانا عبید اللہ خان اعظمی، مولانا فضل الرحیم مجددی، مولانا بلال عبدالحی حسنی ندوی اور مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی شامل ہیں۔ تمام رہنماؤں نے عزم ظاہر کیا ہے کہ مدارس کی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور اس قانونی و آئینی لڑائی میں پوری ملت متحد رہے گی۔




