اتر پردیش کے ضلع سنت کبیر نگر کے علاقے خلیل آباد میں انتظامیہ نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے ایک مبینہ غیر قانونی مدرسے کو منہدم کر دیا ہے۔ جمعہ کے روز گوشت منڈی (موتی نگر) کے علاقے میں واقع اس عمارت کے خلاف کارروائی کے وقت کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے بھاری پولیس نفری تعینات کی گئی تھی۔ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ مدرسہ سرکاری زمین پر بغیر کسی منظور شدہ نقشے کے تعمیر کیا گیا تھا، جس کے خلاف قانونی رکاوٹیں دور ہونے کے بعد بلڈوزر ایکشن لیا گیا۔
سب ڈویژنل مجسٹریٹ (SDM) ہردے رام تیواری کے مطابق، مدرسہ کمیٹی کی جانب سے انہدامی نوٹس کے خلاف دائر کردہ اپیل کو اعلیٰ حکام نے مسترد کر دیا تھا، جس کے بعد کارروائی کی راہ ہموار ہوئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب کسی بھی عدالت میں اس حوالے سے کوئی مقدمہ زیر التوا نہیں ہے، اسی لیے انتظامیہ نے قانون کے مطابق عمارت کو گرانے کا عمل شروع کیا۔ تقریباً 640 مربع میٹر پر پھیلی یہ عمارت آٹھ سال قبل تعمیر کی گئی تھی، جس کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ یہ سرکاری اراضی پر تجاوزات کے زمرے میں آتی ہے۔
یہ معاملہ اس وقت مزید حساس ہو گیا جب اس مدرسے کا تعلق مولانا شمس الہدیٰ خان سے جوڑا گیا، جو اصل میں اعظم گڑھ کے رہنے والے ہیں لیکن 2013 میں برطانوی شہریت حاصل کر چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مولانا شمس الہدیٰ اس وقت برطانیہ میں مقیم ہیں، جبکہ ان کا خاندان خلیل آباد میں ہی رہائش پذیر ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ‘راجہ فاؤنڈیشن’ نامی این جی او اور ذاتی بینک کھاتوں کے ذریعے غیر قانونی غیر ملکی فنڈنگ حاصل کی، جس کی تحقیقات انسداد دہشت گردی اسکواڈ (ATS) اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ED) جیسی ایجنسیاں کر رہی ہیں۔
مقامی پولیس اسٹیشن میں مولانا کے خلاف دھوکہ دہی، جعل سازی اور مجرمانہ سازش کے الزامات کے تحت کم از کم تین ایف آئی آر درج ہیں۔ سرکاری حکام نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ مولانا نے ماضی میں پاکستان کا سفر کیا تھا اور ان کے انتہا پسند تنظیموں سے روابط ہو سکتے ہیں، تاہم یہ الزامات ابھی تحقیقاتی مراحل میں ہیں اور عدالت میں ثابت ہونا باقی ہیں۔ انہدامی کارروائی کے دوران ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ جے پرکاش اور سرکل آفیسر پریم راج شیکھر نے موقع پر موجود رہ کر امن و امان کی صورتحال کی نگرانی کی۔
اتر پردیش حکومت کی جانب سے غیر قانونی تعمیرات اور مشکوک فنڈنگ کے حامل تعلیمی یا مذہبی اداروں کے خلاف مہم مسلسل جاری ہے۔ خلیل آباد میں ہونے والی یہ کارروائی اسی سلسلے کی ایک کڑی قرار دی جا رہی ہے۔ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ عوامی زمینوں پر کسی بھی قسم کی غیر قانونی قبضے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور مستقبل میں بھی ایسی کارروائیاں جاری رہیں گی۔




