شدید گرمی نے سانپوں کو انسانی بستیوں میں دھکیل دیا، کیرالہ میں ایک ہی دن میں 23 افراد متاثر

ریاست کیرالہ میں غیر معمولی گرمی کی لہر نے جہاں عام زندگی کو مفلوج کر دیا ہے، وہیں اب ایک نئے اور سنگین خطرے نے سر اٹھا لیا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق ریاست بھر میں سانپ کے کاٹنے کے واقعات میں اچانک اور نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ترواننت پورم، الاپوزہا، کوژیکوڈ اور ملپّورم سمیت مختلف اضلاع سے موصول ہونے والی اطلاعات نے عوامی سطح پر خوف و ہراس پھیلا دیا ہے، کیونکہ اب یہ زہریلے سانپ صرف دیہی علاقوں یا جھاڑیوں تک محدود نہیں رہے بلکہ ٹھنڈک کی تلاش میں انسانی بستیوں اور گھروں کے اندر بستروں تک پہنچ رہے ہیں۔

حالیہ اعداد و شمار تشویشناک ہیں، جہاں ایک ہی دن کے دوران تقریباً 23 افراد کو سانپ کے کاٹنے کے باعث ہنگامی ایمبولینس خدمات حاصل کرنی پڑیں۔ ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت کی وجہ سے زمین کے اندر موجود سانپوں کے بل ناقابلِ برداشت حد تک گرم ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں یہ جاندار ٹھنڈی جگہوں کی تلاش میں باہر نکلنے پر مجبور ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کچن، غسل خانوں اور یہاں تک کہ سونے کے کمروں سے بھی زہریلے سانپ برآمد ہو رہے ہیں۔

ریاست کے مختلف حصوں سے سامنے آنے والے واقعات دل دہلا دینے والے ہیں۔ کایمکولم میں پانچ افراد بشمول دو کم عمر بچے سانپ کا شکار ہوئے، جبکہ کوژیکوڈ میں ایک نوجوان اس وقت بال بال بچا جب اس نے بیدار ہونے پر اپنے بستر میں سانپ کو موجود پایا۔ ایک اور ہولناک واقعے میں ایک گھر کے مختلف حصوں سے کئی زہریلے سانپ ملے، جن میں سے ایک اس بستر پر تھا جہاں چند لمحے پہلے بچے سو رہے تھے۔ یہ واقعات اس بات کی علامت ہیں کہ ماحولیاتی تبدیلی اب براہِ راست انسانی تحفظ کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔

اس نازک صورتحال کے پیشِ نظر کیرالہ کے محکمہ صحت اور اسپتالوں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ تمام سرکاری اسپتالوں میں ‘اینٹی وینم’ (زہر مٹیانے والی دوا) کا وافر اسٹاک یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ بروقت طبی امداد کی فراہمی کی وجہ سے اب تک زیادہ تر مریضوں کی جانیں بچائی جا چکی ہیں، تاہم لوگوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ روایتی علاج یا جھاڑ پھونک کے بجائے فوری طور پر اسپتال سے رجوع کریں۔

ماہرینِ صحت نے شہریوں کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی ہیں جن میں گھروں کے اطراف سے گھاس پھوس کی صفائی، رات کو زمین پر سونے سے گریز اور گھر کے تاریک گوشوں میں روشنی کا مناسب انتظام شامل ہے۔ محکمہ جنگلات کی ٹیمیں بھی متاثرہ علاقوں میں متحرک ہیں تاکہ آبادیوں میں گھس آنے والے سانپوں کو بحفاظت نکال کر دوبارہ قدرتی مسکن میں منتقل کیا جا سکے۔

موسمیاتی تبدیلیوں اور بڑھتی ہوئی گرمی نے کیرالہ میں انسانوں اور جنگلی حیات کے درمیان ایک نیا ٹکراؤ پیدا کر دیا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ شہری اپنی روزمرہ احتیاط میں اضافہ کریں، کیونکہ یہ محض موسمی تبدیلی نہیں بلکہ ایک جیتا جاگتا خطرہ ہے جو کسی بھی وقت کسی کے گھر کی دہلیز پار کر سکتا ہے۔

شیئر کریں۔