آسام میں شہریت کے تنازع نے ایک بار پھر کئی خاندانوں کی زندگیوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ وزیر اعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما کے حالیہ اعلان کے مطابق، گزشتہ رات 20 افراد کو مشتبہ درانداز قرار دے کر سرحد پار ‘پش بیک’ کر دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب ریاست میں ‘فارنرز ٹریبونل’ جیسے قانونی فورمز کو بائی پاس کر کے براہِ راست پولیس اور انتظامیہ کو بے دخلی کے اختیارات دیے گئے ہیں، جس نے انسانی حقوق کے حوالے سے کئی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ہیمنتا بسوا سرما نے گرفتار کیے گئے افراد کی ایک دھندلی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ آسام اپنی بقا کی جنگ لڑتا رہے گا اور اس طرح کی بے دخلی (Pushback) کا سلسلہ جاری رہے گا۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق ان کی حکومت آسام کو دراندازی سے پاک بنانے کے لیے پرعزم ہے اور اوسطاً ہر ہفتے 35 سے 40 مبینہ غیر قانونی تارکین وطن کو سرحد پار بھیجا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اب ان افراد کو واپس بھیجنے کے لیے دہلی اور ڈھاکہ کے درمیان کسی باقاعدہ واپسی کے معاہدے (Repatriation Treaty) کا انتظار نہیں کرے گی۔
انتظامیہ نے اس مہم کو مہمیز دینے کے لیے 1950 کے ‘امیگرنٹس ایکسپلسن فرام آسام ایکٹ’ (Immigrants Expulsion from Assam Act) کو دوبارہ فعال کر دیا ہے۔ یہ قانون ڈسٹرکٹ کمشنرز اور سینئر پولیس افسران کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ فارنرز ٹریبونلز کے طویل عدالتی عمل کو بائی پاس کرتے ہوئے مشتبہ افراد کو ریاست سے بے دخل کر سکیں۔ اس سے قبل شہریت کے معاملات ‘کواسی جوڈیشل’ باڈیز یعنی ٹریبونلز کے پاس جاتے تھے، جن پر اکثر جانبداری اور معمولی غلطیوں کی بنیاد پر لوگوں کو غیر ملکی قرار دینے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے اس کارروائی کو ریاست کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دیتے ہوئے سخت لہجہ اختیار کیا، مگر زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ اس عمل میں اکثر وہ لوگ متاثر ہوتے ہیں جو برسوں سے یہاں مقیم ہیں اور قانونی پیچیدگیوں یا دستاویزات کی معمولی غلطیوں کی وجہ سے اپنی شناخت ثابت کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹریبونل کے عدالتی عمل کو نظر انداز کر کے کی جانے والی یہ کارروائیاں کسی بھی شخص کو اپنے دفاع کا موقع فراہم نہیں کرتیں، جس سے بے گناہ افراد کے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ریاست میں اکتوبر سے اب تک تقریباً 2000 افراد کو اسی طرح نکالے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اس مہم کے نتیجے میں سرحد پر رہنے والی آبادیوں میں خوف کی فضا ہے، جہاں بنگالی بولنے والے شہریوں کو اکثر شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والی تنظیموں کا موقف ہے کہ شہریت ایک حساس معاملہ ہے اور اسے محض انتظامی احکامات کے ذریعے حل کرنے کے بجائے مکمل قانونی شفافیت کے ساتھ نمٹانا چاہیے تاکہ کسی کی حق تلفی نہ ہو۔




