ساحلی کرناٹک میں سائبر فراڈ کا بڑھتا طوفان، چار سال میں 169 کروڑ سے زائد کا نقصان، برآمدی رقم نہ ہونے کے برابر


منگلورو (فکر و خبر نیوز) ساحلی کرناٹک میں سائبر جرائم خطرناک حد تک بڑھتے جا رہے ہیں، جہاں گزشتہ چار برسوں کے دوران مختلف آن لائن فراڈ کے واقعات میں عوام کو 169.82 کروڑ روپے کا بھاری نقصان اٹھانا پڑا، جبکہ اس کے مقابلے میں صرف 10.60 کروڑ روپے ہی برآمد کیے جا سکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ سائبر جرائم پیشہ عناصر سرگرم ہونے کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے کہیں آگے نکل چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ریاست میں بنگلورو کے بعد سب سے زیادہ سائبر کرائم کے معاملات ساحلی اضلاع خصوصاً منگلورو اور اس کے اطراف سے رپورٹ ہو رہے ہیں، جو ایک تشویشناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق  سال 2023 میں سائبر فراڈ کے 467 مقدمات درج کیے گئے جن میں 83 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ 2024 میں 486 کیسز سامنے آئے اور 67 گرفتاریاں عمل میں آئیں، جبکہ 2025 میں 485 مقدمات درج ہوئے لیکن گرفتار افراد کی تعداد گھٹ کر صرف 42 رہ گئی۔ سال 2026 کے ابتدائی دو ماہ (فروری تک) میں ہی 60 کیسز درج ہو چکے ہیں، تاہم اب تک کسی ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی۔

حکام کے مطابق اب تک گرفتار ہونے والے زیادہ تر افراد محض درمیانی کردار ادا کرنے والے ایجنٹس ہیں، جبکہ اصل ماسٹر مائنڈز تک پہنچنا اب بھی ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سائبر جرائم پیشہ افراد جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (AI) ٹولز اور جعلی ایپلیکیشنز کے ذریعے نہایت تیزی سے وارداتوں کو انجام دے رہے ہیں جبکہ پولیس نظام اب بھی اس رفتار سے ہم آہنگ نہیں ہو پایا، جو اس بڑھتے ہوئے جرائم کی ایک اہم وجہ بن رہا ہے۔

سالانہ مالی نقصانات پر نظر ڈالیں تو 2023 میں تقریباً 17.96 کروڑ روپے کا فراڈ ہوا، جس میں سے صرف 1.65 کروڑ روپے برآمد ہو سکے۔ 2024 میں نقصان بڑھ کر 70.12 کروڑ روپے تک پہنچ گیا، جس میں سے 5.34 کروڑ روپے واپس ملے۔ 2025 میں یہ رقم مزید بڑھ کر 74.53 کروڑ روپے ہو گئی، جبکہ برآمدگی صرف 3.55 کروڑ روپے رہی۔ اسی طرح 2026 کے ابتدائی دو ماہ میں ہی 7.19 کروڑ روپے کا نقصان ہو چکا ہے، جبکہ محض 5 لاکھ روپے ہی واپس حاصل کیے جا سکے ہیں۔