بنچ کی تبدیلی کے بعد گھر پر باجماعت نماز پر ہائی کورٹ کا موقف بھی تبدیل،پولس کارروائی کو جائز ٹہرایا


الہ آباد ہائی کورٹ نے بریلی میں گھر میں باجماعت نماز کے معاملے پر اہم فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر کسی نجی مقام پر عبادت کے لیے بڑی تعداد میں لوگوں کے جمع ہونے سے امن و امان متاثر ہونے کا اندیشہ ہو تو انتظامیہ قانون کے مطابق کارروائی کرنے کے لیے آزاد ہوگی۔ اس فیصلے نے نجی عبادت اور قانون و نظم کے درمیان توازن پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق یہ معاملہ بریلی کے رہائشی حسین خان سے متعلق ہے، جنہوں نے اپنے گھر میں نماز پر پولیس کارروائی کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔ ابتدائی طور پر جسٹس اتل سری دھرن کی بنچ نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے حسین خان کو 24 گھنٹے سیکیورٹی فراہم کرنے کا حکم دیا تھا اور مبینہ کارروائی پر ضلع مجسٹریٹ اور پولیس سربراہ کو توہین عدالت کا نوٹس بھی جاری کیا گیا تھا۔

تاہم کچھ ہی دنوں بعد یہ معاملہ نئی بنچ کے حوالے کر دیا گیا، جس میں جسٹس سرل سریواستو اور جسٹس گریما پرساد شامل تھے۔ نئی بنچ نے کیس کی سماعت کے بعد انتظامیہ کے موقف کی تائید کرتے ہوئے فیصلہ سنایا اور واضح کیا کہ اگر مستقبل میں کسی نجی مقام پر بڑی تعداد میں لوگوں کے جمع ہونے سے امن و امان کو خطرہ لاحق ہوتا ہے تو متعلقہ حکام قانونی کارروائی کرنے کے مجاز ہوں گے۔

عدالت میں حسین خان کے وکیل نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ ان کے مؤکل کے گھر پر بڑی تعداد میں افراد جمع نہیں ہوں گے۔ عدالت نے اس یقین دہانی کو قبول کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس کی خلاف ورزی ہوئی اور علاقے کا امن متاثر ہوا تو انتظامیہ کارروائی کرنے کے لیے آزاد ہوگی۔ ساتھ ہی عدالت نے حسین خان کے خلاف درج چالان کو واپس لینے کا بھی حکم دیا۔

یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ملک میں مذہبی آزادی، نجی عبادت اور قانون و نظم کے درمیان توازن پر مسلسل بحث جاری ہے۔ اس فیصلے کو ایک طرف انتظامیہ کے اختیارات کی توثیق کے طور پر دیکھا جا رہا ہے تو دوسری طرف بعض حلقوں میں اسے نجی عبادت پر ممکنہ قدغن کے تناظر میں بھی زیر بحث لایا جا رہا ہے۔

اس فیصلے کے اثرات نہ صرف بریلی بلکہ دیگر علاقوں میں بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں جہاں گھروں یا چھوٹے مقامات پر اجتماعی عبادات کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اب عوام اور متعلقہ حلقوں کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ اس فیصلے کی روشنی میں آئندہ انتظامیہ کس حد تک کارروائی کرتی ہے۔