آسام کے وزیر اعلیٰ کے عدالت کی نوٹس کے باوجود اشتعال انگیز تبصرے جاری

بدھ کو درخواست گزاروں نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ وزیر اعلیٰ نے نوٹس جاری ہونے کے بعد بھی مذہبی طور پر اشتعال انگیز، آتش افروز اور غیر ضروری تبصرے جاری رکھے۔ درخواست گزاروں کے وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا کہ شرما کی پوری سوچ صرف ایک اقلیت کے لیے مخصوص ہے۔وکیل نے کہا کہ "ایک آئینی عہدیدار کو امن اور توازن قائم رکھنا چاہیے، لیکن شرما کی نظر میں کوئی ریگولیٹری، عدالتی یا فیصلہ کن فریم ورک نہیں ہے۔‘‘انہوں نے عدالت میں مارچ اور اپریل کے تازہ تبصروں پر بھی ایک نوٹ پیش کیا، جس میں بتایا گیا کہ شرما نے ’’میاں‘‘ کی اصطلاح استعمال کرنا جاری رکھا۔بعد ازاں درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ شرما کی تقاریر پر عبوری پابندی لگائی جائے، لیکن عدالت نے یہ درخواست مسترد کر دی اور کہا کہ وہ شرما کے جواب کا انتظار کرے گی۔ تاہم عدالت نے ریاستی وکیل کو زبانی طور پر کہا کہ اس معاملے میں جواب دینے سے گریز نہیں کیا جا سکتا۔ اب اس معاملے کی سماعت۲۸؍ مئی کو ہوگی۔

واضح رہے کہ جنوری میں شرما نے آسام میں بنگالی نژاد مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے انہیں ’’میاں‘‘ کہا ہے اور کہا ہے کہ انہیں ’’تکلیف دینا‘‘ ان کا کام ہے۔ دراصل آسام میں ’’میاں‘‘ غیر دستاویزی تارکین وطن کے لیے ایک توہین آمیز لفظ ہے، جو خاص طور پر بنگالی نژاد مسلمانوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔جبکہ شرما کے خلاف کانگریس، ماہر تعلیم ہیرن گوہین، سی پی آئی (ایم) اور دیگر نے درخواستیں دائر کی ہیں۔حالانکہ فروری کو عدالت نے شرما سے جواب طلب کیا تھا۔ اس سے قبل سپریم کورٹ نے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزتقریر پر شرما کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی درخواستوں پر سماعت سے انکار کرتے ہوئے درخواست گزاروں کو گوہاٹی ہائی کورٹ جانے کو کہا تھا۔

شیئر کریں۔