مدھیہ پردیش کے شہر دھار میں واقع تاریخی کمال مولا مسجد اور بھوج شالہ یادگار کے طویل المدتی تنازعہ میں ایک نیا موڑ آ گیا ہے۔ مسلم فریق نے پیر کے روز مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ کو مطلع کیا ہے کہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کی تیار کردہ رپورٹ مکمل طور پر ’جانبدارانہ‘ ہے اور اسے ہندو عرضی گزاروں کے حق میں حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ جسٹس وجئے کمار شکلا اور جسٹس آلوک اوستھی پر مشتمل ڈویژن بنچ کے سامنے مولانا کمال الدین ویلفیئر سوسائٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ سلمان خورشید اور ایڈوکیٹ توصیف وارثی نے تفصیلی اعتراضات پیش کیے۔
مسلم فریق نے اپنے اعتراضات میں اس بات پر شدید احتجاج کیا کہ اے ایس آئی نے پوری رپورٹ میں اس احاطے کے لیے مسلسل ’بھوج شالہ مندر‘ کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ وکلاء نے دلیل دی کہ اس بات کا کوئی تاریخی ثبوت موجود نہیں ہے کہ یہ مقام کبھی دیوی سرسوتی کے لیے وقف مندر کے طور پر موجود رہا ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی اصطلاحات کا استعمال اے ایس آئی کے ادارہ جاتی تعصب کو ظاہر کرتا ہے، کیونکہ ادارے نے اپنے ہی ماضی کے ریکارڈز اور متعلقہ تاریخی متن کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا ہے۔
سوسائٹی نے عدالت میں یہ موقف بھی اختیار کیا کہ اے ایس آئی سروے کی مکمل ویڈیو گرافی اور رنگین تصاویر فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ فراہم کردہ ویڈیو کلپس محض 45 سیکنڈ کے ہیں، جو کہ سروے کی شفافیت پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں۔ وکلاء نے زور دے کر کہا کہ رپورٹ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے کہ کمال مولا مسجد کسی پہلے سے موجود مذہبی ڈھانچے کو منہدم کر کے تعمیر کی گئی تھی۔
سلمان خورشید نے بحث کے دوران کہا کہ اے ایس آئی نے طبعی کھدائی (Physical Excavation) کر کے سپریم کورٹ کی ہدایات کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی ہے، جس سے اس قدیم یادگار کی اصل شکل و صورت بدل گئی ہے۔ انہوں نے سروے کے دوران برآمد ہونے والی اشیاء کو ’مشکوک‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ویڈیوز میں ایک ہی سلیب کے نیچے سے پلاسٹک کی بوتلیں، پیپر کپ اور پلاسٹک جیسی جدید اشیاء ملی ہیں۔ یہ چیزیں 13ویں یا 14ویں صدی کی نہیں ہو سکتیں۔ مزید برآں، برآمد شدہ نوادرات پر مٹی کی تہہ نہ ہونا ان کی اصلیت کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے۔
مسلم فریق نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ ہائی کورٹ کی واضح ہدایت کے باوجود رپورٹ میں ’کاربن ڈیٹنگ‘ کا ذکر نہیں ہے، اور سروے کے دوران ملنے والے گوتم بدھ کے مجسمے کو حتمی رپورٹ سے غائب کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ اے ایس آئی نے 22 مارچ 2024 سے 98 دنوں تک اس مقام کا سائنسی سروے کیا تھا اور جولائی 2024 میں 2000 صفحات پر مشتمل رپورٹ پیش کی تھی۔ اس معاملے کی سماعت منگل کے روز بھی جاری رہے گی، جہاں مسلم فریق اپنے بقیہ دلائل پیش کرے گا۔




