حجاب کی اجازت کے خلاف ہندوتواتنظیموں کا نیاڈرامہ: ہبلی میں طلبا کے درمیان زعفرانی شالوں کی تقسیم

کرناٹک حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں میں مسلم طالبات کو حجاب پہننے کی اجازت دینے کے حالیہ نوٹیفکیشن کے خلاف ریاست میں ایک بار پھر احتجاجی سرگرمیاں شروع ہو گئی ہیں۔ پیر یکم جون 2026 کو ہبلی شہر میں دائیں بازو کی تنظیم شری رام سینا کے ارکان نے حکومت کے اس فیصلے کے خلاف سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کالج کے طلبہ میں بڑے پیمانے پر زعفرانی شالیں تقسیم کیں۔ تنظیم کے اس اقدام کا مقصد تعلیمی اداروں میں حجاب کی واپسی کے خلاف علامتی احتجاج درج کرانا ہے، جس نے ریاست کے پرانے حجاب تنازعے کی یاد تازہ کر دی ہے۔

دستیاب رپورٹس کے مطابق شری رام سینا کے کارکناں نے ہبلی میں واقع دو معروف تعلیمی اداروں کناکا داسا کالج اور مہیلا ودیا پیٹھا کے مرکزی دروازوں پر کھڑے ہو کر طلبہ میں زعفرانی شالیں بانٹیں۔ اس موقع پر تنظیم کی جانب سے نوجوانوں پر زور دیا گیا کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر ان شالوں کو پہن کر کالج آئیں تاکہ حکومت پر دباؤ بنایا جا سکے۔ کالجوں کے باہر کھڑے ہونے کے علاوہ تنظیم کے ارکان نے سڑکوں پر یونیفارم پہن کر جانے والے طلبہ کو بھی روک کر شالیں پیش کیں اور اپنے اس مہم کا حصہ بننے کی ترغیب دی۔

شری رام سینا کے مقامی عہدیدار جیش درگڈ نے میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اب تک مختلف کالجوں کے تقریباً 200 طلبہ کو زعفرانی شالیں فراہم کی جا چکی ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ کرناٹک حکومت کی جانب سے حجاب پر عائد سابقہ پابندی کو واپس لینے کا فیصلہ کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ یہ مہم صرف ہبلی تک محدود نہیں رہے گی بلکہ آنے والے دنوں میں ریاست کے دیگر اضلاع اور تعلیمی اداروں میں بھی اسی طرز پر زعفرانی شالوں کی تقسیم کا عمل تیز کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ کرناٹک حکومت نے اس سے قبل اسکولوں اور کالجوں میں رائج یونیفارم کے قوانین کے تحت مخصوص مذہبی علامات پر پابندی عائد کر دی تھی، جسے اب نرم کرتے ہوئے محدود مذہبی علامات کے ساتھ حجاب کی مشروط اجازت دی گئی ہے۔ مسلم تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں نے حکومت کے اس حالیہ فیصلے کو طالبات کے حقِ تعلیم اور مذہبی آزادی کے عین مطابق قرار دیا تھا، تاہم دائیں بازو کی تنظیموں کی جانب سے اس فیصلے کو سیاسی رنگ دینے اور تعلیمی ماحول کو متاثر کرنے کی کوششیں دوبارہ شروع کر دی گئی ہیں جس سے مقامی انتظامیہ کی تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔

شیئر کریں۔