اتر پردیش کے معروف شیعہ عالم دین اور مجلس علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولانا سید کلب جواد نقوی نے ملک کی موجودہ خارجہ پالیسی، عالمی طاقتوں کے اثر و رسوخ اور داخلی سیاسی صورتحال پر مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اتوار کے روز سہارنپور کے دورے کے دوران ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہندوستان کی موجودہ خارجہ پالیسی اور بہت سے اہم فیصلے امریکہ اور اسرائیل کے دباؤ اور اثر و رسوخ کے تحت لیے جا رہے ہیں۔ مولانا کلب جواد نے اس موقع پر ملک کی معاشی صورتحال، بڑھتی ہوئی مہنگائی، چابہار بندرگاہ منصوبے اور ملک میں جاری مذہب کی سیاست پر کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا، جس کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
مولانا کلب جواد نے سہارنپور کی تاریخی فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور رواداری کی تعریف کرتے ہوئے اپنی گفتگو کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس شہر میں ہندو مسلم بھائی چارہ انتہائی مضبوط ہے اور یہاں شیعہ اور سنی برادریوں کے درمیان بھی مثالی تعلقات قائم ہیں۔ اتنی بڑی آبادی اور تنوع کے باوجود سماجی ہم آہنگی کا برقرار رہنا خوش آئند ہے۔ تاہم، خارجہ پالیسی پر مودی حکومت کو گھیرتے ہوئے انہوں نے سوال اٹھایا کہ ہندوستان کو اسرائیل کے ساتھ پینگیں بڑھانے سے ایسا کیا فائدہ مل رہا ہے جس کی وجہ سے وہ ایران اور روس جیسے اپنے دیرینہ، آزمودہ اور قابل اعتماد اتحادیوں سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کو اپنی ضرورت کا زیادہ تر تیل، گیس، یوریا اور لاکھوں نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع مسلم ممالک سے حاصل ہوتے ہیں، جبکہ اسرائیل سے اس طرح کا کوئی براہ راست اقتصادی فائدہ حاصل نہیں ہو رہا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس پالیسی پر ملک کے سامنے واضح جواب رکھے۔
اپنے خطاب کے دوران شیعہ عالم نے ایران میں واقع چابہار بندرگاہ منصوبے کا خاص طور پر ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے اس ساتیجیاتی منصوبے میں عوامی ٹیکس کا ایک بہت بڑا سرمایہ لگایا ہے، لیکن امریکہ اور عالمی پابندیوں کے خوف سے اس منصوبے سے وہ فوائد حاصل نہیں کیے جا سکے جو متوقع تھے۔ انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ اگر اس منصوبے پر مکمل عمل درآمد نہیں ہو پا رہا تو عوام کے اس فنڈ کی واپسی کیسے ممکن ہوگی؟ مولانا نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے خلاف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں اور غزہ میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ان پر تند و تیز تبصرے کیے اور وزیر اعظم نریندر مودی کے اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
ملک کی داخلی سیاست اور مسلم کمیونٹی کو نشانہ بنائے جانے کے حوالے سے مولانا کلب جواد نے واضح الفاظ میں کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو اقتدار حاصل کرنے کے لیے مذہب کا بے جا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ مذہب کی بنیاد پر کی جانے والی سیاست معاشرے کو تقسیم کرتی ہے اور اس کا براہ راست نقصان عام شہریوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ انہوں نے مسلم کمیونٹی کے خلاف چلائے جانے والے بعض سیاسی پروپیگنڈوں کا بھی کرارا جواب دیا۔ مسلمانوں میں چار شادیوں کے معاملے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے صاف کہا کہ یہ محض ایک مبالغہ آرائی ہے، جسے سنگھ پریوار اور مخصوص نظریاتی گروپ معاشرے میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور انتشار پھیلانے کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
رپورٹس کے مطابق، سال 2027 میں ہونے والے اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے حوالے سے مولانا نے عوام اور بالخصوص مسلم ووٹروں کو ایک اہم مشورہ دیا۔ انہوں نے اپیل کی کہ عوام اب بیدار ہوں اور مذہب یا فرقہ واریت کی بنیاد پر ووٹ مانگنے والوں کو مسترد کر دیں۔ ووٹرز کو صرف ان پارٹیوں اور امیدواروں کو ترجیح دینی چاہیے جو تعلیم، روزگار، سستی صحت اور عوامی بہبود کے حقیقی مسائل پر کام کرتے ہوں۔ انہوں نے عوام کو خبردار کیا کہ وہ جذباتی نعروں سے ہوشیار رہیں اور اپنے ووٹ کا استعمال انتہائی دانشمندی کے ساتھ کریں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ مولانا کلب جواد کا یہ تفصیلی بیان آنے والے دنوں میں اتر پردیش اور ملکی سطح پر اپوزیشن کی سیاست کو ایک نیا رخ دے سکتا ہے۔




