لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی نے رائے بریلی میں پارٹی کارکنان کے ایک بڑے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی پر اب تک کے سنگین ترین معاشی اور سیاسی الزامات عائد کیے ہیں۔ میڈیا نمائندوں اور جماعتی ورکرز سے گفتگو کرتے ہوئے راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ ہندوستان ایک انتہائی ہولناک اور زبردست معاشی طوفان کے دہانے پر کھڑا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس آنے والے معاشی بحران کی سب سے سخت چوٹ ملک کے غریب مزدوروں، کسانوں اور چھوٹے تاجروں پر لگے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ طویل عرصے سے حکومت کو اس طوفان کے بارے میں الرٹ کر رہے ہیں اور عوام کی حفاظت کے اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن وزیر اعظم نریندر مودی کو ان عوامی مسائل سے کوئی سروکار نہیں ہے اور وہ صرف بیرون ملک کے دوروں میں مصروف ہیں۔
راہل گاندھی نے اپنے خطاب میں کارپوریٹ نوازی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ملک کی تمام دولت صرف دو صنعت کاروں، اڈانی اور امبانی کی جیبوں میں منتقل کی جا رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایک طرف یہ دونوں صنعت کار سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع پر وزیر اعظم مودی کی برانڈنگ اور مارکیٹنگ کرتے ہیں، تو دوسری طرف وزیر اعظم مودی ملک کے بے روزگار نوجوانوں کو روزگار دینے کے بجائے ’ریلز‘ دیکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ کانگریس رہنما کے مطابق گزشتہ دس سالوں کے دوران نوٹ بندی اور غلط طریقے سے نافذ کی گئی جی ایس ٹی کے ذریعے عوام کی جمع پونجی چھین کر کارپوریٹ گھرانوں کے حوالے کر دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے ہوائی اڈے، بندرگاہیں، پاور سیکٹر اور یہاں تک کہ دفاعی شعبہ بھی وزیر اعظم نے اپنے دوستوں کے حوالے کر دیا ہے، جس کی وجہ سے منریگا جیسی غریب پرور اسکیمیں دم توڑ رہی ہیں اور مہنگائی قابو سے باہر ہو چکی ہے۔
قائد حزب اختلاف نے ملک کے میڈیا اداروں کی کارکردگی اور ان کی مجبوریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج ملکی میڈیا پر کارپوریٹ کا مکمل کنٹرول قائم ہو چکا ہے۔ میڈیا کسانوں اور مزدوروں کے حقیقی مسائل دکھانے کے بجائے دن رات امبانی کی شادی کی تقریبات اور کرکٹ میچوں کی کوریج میں مصروف رہتا ہے۔ انہوں نے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ صحافیوں سے عوامی مسائل پر بات کرنے کو کہتے ہیں تو وہ نجی بات چیت میں مسکرا کر اعتراف کرتے ہیں کہ وہ مجبور ہیں کیونکہ انہیں اپنی فیملی چلانے کے لیے تنخواہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ راہل گاندھی نے مودی حکومت کی ترجیحات پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ آج ملک کا غریب روٹی، روزگار اور سستی رسوئی گیس کے لیے ترس رہا ہے، جبکہ وزیر اعظم عوام کو الیکٹرک گاڑیاں خریدنے، سونا نہ خریدنے اور بیرون ملک نہ جانے جیسے مضحکہ خیز مشورے دے رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ زمینی حقائق سے بالکل کٹ چکے ہیں۔
وزیر اعظم پر بین الاقوامی سطح پر ملکی مفادات کا سودا کرنے کا ایک سنسنی خیز الزام عائد کرتے ہوئے راہل گاندھی نے پٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا حوالہ دیا، جس کی وجہ سے ہر عام چیز مہنگی ہو رہی ہے۔ انہوں نے کانگریس کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ بی جے پی کے لوگوں کو زمین پر بے نقاب کریں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم مودی نے امریکہ کے ساتھ ایک انتہائی نقصان دہ تجارتی معاہدہ کیا ہے جس کے تحت ہندوستان کا سارا ڈیجیٹل ڈیٹا، انرجی سیکورٹی اور زرعی شعبہ امریکی مفادات کے لیے کھول دیا گیا ہے، اور ہر سال امریکہ سے ساڑھے نو لاکھ کروڑ روپے کا مال خریدنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ راہل گاندھی کے مطابق، یہ سب کچھ وزیر اعظم نے صرف اس لیے کیا ہے تاکہ وہ خود کو بین الاقوامی سطح پر ایپسٹین کیس اور اڈانی کیس کی تحقیقات کے ممکنہ اثرات سے محفوظ رکھ سکیں۔
اپنے خطاب کے اختتام پر راہل گاندھی نے عوام اور کارکنان پر زور دیا کہ ملک کو صرف اور صرف عوام کی بیداری ہی بچا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک موجودہ نظام اور حکومت کو بدلا نہیں جاتا، تب تک غریبوں کا استحصال اور کارپوریٹ کی دولت میں اضافہ اسی طرح جاری رہے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کانگریس پارٹی کسانوں، کسانوں کے حقوق، اور چھوٹے تاجروں کی بقا کے لیے اپنی سیاسی اور قانونی جدوجہد جاری رکھے گی اور حکومت کی عوام مخالف پالیسیوں کے خلاف ہر سطح پر آواز بلند کی جائے گی۔




