کرناٹک کابینہ میں ایک اور ڈپٹی سی ایم کی مانگ؛ سینئر کانگریس لیڈر اور وزیر کے ایچ منیاپا کا بڑا انکشاف

بنگلورو ؛ کرناٹک کی حکمراں جماعت کانگریس کے سینئر کانگریس لیڈر اور ریاستی وزیر کے ایچ منیاپا نے کھلے طور پر اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے ریاست میں نائب وزیر اعلیٰ (ڈپٹی سی ایم) کے عہدے کے لیے مہم تیز کر دی ہے۔ منیاپا نے انکشاف کیا کہ انہوں نے یہ مطالبہ کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے اور سینئر پارٹی لیڈر راہل گاندھی کے سامنے نئی دہلی میں منعقدہ حالیہ ملاقاتوں کے دوران رکھا ہے۔ واضح رہے کہ یہ بیان ان کے اس عوامی احتجاج کے چند دنوں بعد آیا ہے جس میں انہوں نے کھل کر کہا تھا کہ پارٹی کے اندر سینئر لیڈروں کو وہ پہچان اور اہمیت نہیں مل رہی ہے جس کے وہ حقدار ہیں۔ تاہم، راہل گاندھی سے تفصیلی ملاقات کے بعد تجربہ کار لیڈر کے تیور کچھ نرم پڑے ہیں اور انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "میں راہل جی کی یقین دہانی سے پوری طرح مطمئن ہوں”۔
جب صحافیوں نے ان سے براہِ راست سوال کیا کہ کیا وہ واقعی ڈپٹی سی ایم بننے کے خواہش مند ہیں، تو منیاپا نے جواب دیا کہ "میں نے ملکارجن کھرگے اور راہل گاندھی دونوں کے سامنے اپنی درخواست پیش کر دی ہے۔ اب اس پر حتمی فیصلہ لینا پارٹی ہائی کمان کی ذمہ داری ہے”۔ انہوں نے مزید کہا کہ "راہل گاندھی نے مجھے یقین دلایا ہے کہ وہ ہر چیز کا خیال رکھیں گے اور مجھے تندہی سے پارٹی کے لیے کام جاری رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔ میں نے سب کچھ ان کے فیصلے پر چھوڑ دیا ہے۔ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ سینئر لیڈروں کو کس طرح عزت دی جانی چاہیے، وہ ہمارے سپریم لیڈر ہیں”۔
پارٹی ذرائع کے مطابق، شیڈولڈ کاسٹ (SC-Left) برادری سے تعلق رکھنے والے منیاپا نے کانگریس قیادت کے سامنے دلت برادری کے اندرونی توازن کا معاملہ بھی اٹھایا ہے۔ انہوں نے قیادت کو یاد دلایا کہ SC (Right) برادری سے تعلق رکھنے والے جی پرمیشورا کو پہلے ہی کابینہ میں بڑی نمائندگی مل چکی ہے، ایسے میں دلتوں کے دوسرے دھڑے کو نظرانداز کرنے سے کمیونٹی میں غلط پیغام جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ منیاپا نے موجودہ محکموں کے بجائے براہِ راست عوام سے جڑے ہوئے اہم محکموں جیسے سماجی بہبود (Social Welfare)، زراعت، یا آبی وسائل کی وزارت حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے، تاکہ وہ عوامی سطح پر مزید بہتر کام کر سکیں۔

شیئر کریں۔