پرائیویٹ اسپتالوں کو وزیرصحت یو ٹی قادر کا سخت انتباہ؛ ‘آیوشمان بھارت اسکیم’ کے تحت اضافی فیس وصول کرنے پر منسوخ ہوگا لائسنس

منگلورو (فکرو خبر نیوز) کرناٹک کے وزیرِ صحت و خاندانی بہبود جناب یو ٹی قاادر نے نجی اسپتالوں کو سخت لفظوں میں انتباہ دیا ہے کہ وہ ‘آیوشمان بھارت آروگیہ کرناٹک’ (AB-ArK) اسکیم کے مستحقین سے حکومت کے طے شدہ اصولوں کے خلاف جا کر کوئی بھی اضافی فیس یا رقم وصول نہ کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومتی ہیلتھ کیئر قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے گی۔ وزیرِ صحت نے یہ بات پیر کے روز ضلع دکشنا کنڑا میں محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام اور طبی ماہرین کے ساتھ ایک اہم جائزہ میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے پبلک ہیلتھ کیئر سروسز کو مضبوط بنانے اور نجی شعبے میں جوابدہی کو بہتر بنانے کے لیے کئی اہم فیصلے کیے ہیں۔
جائزہ میٹنگ کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ صحت یو ٹی قادر نے کہا کہ نجی اسپتالوں کو بی پی ایل (BPL) کارڈ ہولڈرز سے، جو اس اسکیم کے تحت علاج کروا رہے ہیں، ایک روپیہ بھی اضافی وصول کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کی طرف سے مقرر کردہ ‘آروگیہ مترا’ کا یہ بنیادی فریضہ ہے کہ وہ مریضوں کو بغیر کسی پریشانی کے علاج کی سہولت فراہم کریں۔ اگر کوئی آروگیہ مترا اپنی ذمہ داریوں میں لاپرواہی برتتا ہے یا مریضوں کی صحیح رہنمائی نہیں کرتا تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہوگی۔ اسی طرح جو نجی اسپتال حکومت کی اسپانسر کردہ ہیلتھ اسکیموں کے تحت مریضوں کا علاج کرنے سے انکار کریں گے، ان کے لائسنس منسوخ کر دیے جائیں گے۔ انہوں نے اے پی ایل (APL) کارڈ ہولڈرز کے لیے موجودہ 30:70 لاگت کی شراکت داری کے نظام پر بھی نظرثانی کرنے اور مناسب فیصلہ لینے کی یقین دہانی کرائی۔
وزیرِ صحت نے ریاست بھر کے سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی کے حوالے سے ایک اور اہم پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ صحت دیہی اور پہاڑی علاقوں میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹروں کو راغب کرنے کے لیے ان کی تنخواہوں میں اضافے سمیت کئی نئے اقدامات پر غور کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، کنٹریکٹ (معاہدے) پر کام کرنے والے ڈاکٹروں کو مستقل کرنے کے حوالے سے بھی بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پہلے تین سال کی سروس کے بعد کنٹریکٹ ڈاکٹروں کو مستقل کر دیا جاتا تھا، اور حکومت اس پرانے نظام کو دوبارہ نافذ کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے، جس کا فیصلہ جلد ہی سامنے آئے گا۔

شیئر کریں۔