مغربی بنگال: فالٹا اسمبلی سیٹ پر دوبارہ پولنگ سے قبل بڑا سیاسی الٹ پھیر، ٹی ایم سی کے اہم امیدوار جہانگیر خان دستبردار

مغربی بنگال کی سیاست میں اس وقت ایک انتہائی سنسنی خیز اور غیر متوقع موڑ سامنے آیا جب ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے اہم امیدوار جہانگیر خان نے فلتا اسمبلی حلقہ میں 21 مئی کو ہونے والی دوبارہ پولنگ سے ٹھیک دو دن پہلے انتخابی میدان سے دستبردار ہونے کا اچانک اعلان کر دیا۔ جہانگیر خان، جو ٹی ایم سی کے سیکنڈ ان کمانڈ ابھیشیک بنرجی کے انتہائی قریبی مانے جاتے ہیں اور مسلم اکثریتی و ڈائمنڈ ہاربر خطے میں پارٹی کا بڑا چہرہ ہیں، نے منگل کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران سیاست اور انتخابی عمل سے دور ہونے کا فیصلہ سناتے ہوئے سب کو حیران کر دیا۔ انہوں نے اپنی اس غیر متوقع دستبرداری کی وجہ ریاست کے موجودہ وزیر اعلیٰ اور بی جے پی رہنما سویندو ادھیکاری کی جانب سے فلتا خطے کے لیے ایک خصوصی ترقیاتی پیکیج کے اعلان کو قرار دیا ہے۔

جہانگیر خان نے پریس کانفرنس اور سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں جذباتی انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وہ فلتا کی مٹی کے بیٹے ہیں اور ان کا ہمیشہ سے یہ خواب رہا ہے کہ ان کا علاقہ پرامن رہے، ترقی کرے اور ’سونار فلتا‘ (سنہرا فلتا) بنے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ چونکہ بی جے پی کے وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری نے اس علاقے کی ترقی کے لیے ایک خصوصی پیکیج دینے کا وعدہ کیا ہے، اس لیے وہ فلتا کے وسیع تر عوامی مفاد، امن اور ترقی کی خاطر خود کو اس انتخابی دوڑ سے الگ کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 کے حالیہ نتائج میں بی جے پی نے واضح اکثریت حاصل کر کے حکومت بنائی ہے اور سویندو ادھیکاری وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز ہوئے ہیں، جس کے بعد اس سیٹ پر دوبارہ پولنگ ہو رہی ہے۔ اگرچہ نامزدگی واپس لینے کی قانونی مدت ختم ہو چکی ہے اور ای وی ایم پر ٹی ایم سی کا انتخابی نشان برقرار رہے گا، لیکن امیدوار کے دستبردار ہونے سے اب ترنمول کی انتخابی مہم مکمل طور پر ٹھپ ہو گئی ہے۔

دوسری طرف ترنمول کانگریس کی اعلیٰ قیادت نے جہانگیر خان کے اس اقدام پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے فیصلے کی سخت مذمت کی ہے۔ ٹی ایم سی نے ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ انتخابی میدان چھوڑنے کا فیصلہ جہانگیر خان کا خالص ذاتی انتخاب ہے اور اس کا پارٹی کی پالیسی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ٹی ایم سی نے بی جے پی پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ 4 مئی کو انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد سے اب تک صرف فلتا حلقے میں پارٹی کے 100 سے زائد مخلص ورکرز کو پولیس کے ذریعے جھوٹے مقدمات میں گرفتار کروایا گیا ہے، کئی پارٹی دفاتر پر دن دہاڑے حملے کر کے انہیں بند کر دیا گیا ہے اور الیکشن کمیشن تمام شکایات کے باوجود خاموش تماشائی بنا رہا۔ ٹی ایم سی کے مطابق بی جے پی کی مرکزی ایجنسیوں اور ریاستی انتظامیہ کے شدید دباؤ، خوف اور ہراساں کیے جانے کے سامنے کچھ لوگ ہمت ہار گئے اور میدان سے پیچھے ہٹ گئے، لیکن پارٹی بنگال مخالف بی جے پی کے خلاف دہلی اور کولکتہ دونوں محاذوں پر اپنی جنگ جاری رکھے گی۔

اس کے برعکس وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری نے انتخابی مہم کے آخری دن فلتا میں ایک روڈ شو کے دوران جہانگیر خان پر سخت طنز کرتے ہوئے ایک بالکل الگ کہانی پیش کی۔ وزیر اعلیٰ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جہانگیر خان انتخابی میدان سے بھاگ کھڑے ہوئے ہیں کیونکہ انہیں اپنی شکست کا سو فیصد یقین تھا اور انہیں پولنگ بوتھوں پر کھڑا کرنے کے لیے ایجنٹس تک نہیں مل رہے تھے۔ سویندو ادھیکاری نے یاد دلایا کہ انتخابی مہم کے دوران اسی ٹی ایم سی رہنما نے خود کو فلمی انداز میں ’پشپا‘ کہتے ہوئے قانون کو چیلنج کیا تھا، لیکن اب وہ فرار ہو چکے ہیں۔ یاد رہے کہ فلتا اسمبلی سیٹ پر 29 اپریل کو ہونے والی پولنگ کے دوران بڑے پیمانے پر انتخابی دھاندلیوں، ای وی ایم مشینوں پر کالی ٹیپ چپکانے اور ووٹروں کو ڈرانے دھمکانے کی سنگین شکایات کے بعد الیکشن کمیشن نے تمام 285 پولنگ اسٹیشنوں کی ووٹنگ منسوخ کر کے یہاں 21 مئی کو دوبارہ مکمل پولنگ کرانے کا حکم دیا تھا۔

اس علاقے میں مسلم رائے دہندگان کی ایک بڑی تعداد موجود ہے اور یہ حلقہ ابھیشیک بنرجی کا مضبوط گڑھ مانا جاتا رہا ہے، اس لیے جہانگیر خان کی اس دستبرداری کو ترنمول کانگریس کے لیے ایک انتہائی شرمناک اور بڑا سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق اور جمہوریت کے علمبرداروں کا ماننا ہے کہ الیکشن کے عین موقع پر ایجنسیوں کے مبینہ دباؤ یا سیاسی سودے بازی کے تحت امیدواروں کا اس طرح میدان چھوڑنا انتخابی شفافیت اور عوامی رائے دہی کے عمل پر سوالیہ نشان کھڑے کرتا ہے۔ فلتا میں اب انتخابی جنگ یکطرفہ نظر آ رہی ہے جہاں بی جے پی کے امیدوار دیبانگشو پانڈا کی پوزیشن مضبوط ہو گئی ہے، تاہم 21 مئی کو ہونے والی ووٹنگ اور 24 مئی کو آنے والے نتائج پر پوری ریاست کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں۔

شیئر کریں۔