’مجھے سابق فوجی چیف کی بات پر بھروسہ،پینگوئن کے بیان پر راہل گاندھی کا تبصرہ

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے سابق فوجی چیف جنرل منوج مکند نروَنے کی خود نوشت کی اشاعت سے متعلق تنازعہ کے درمیان اُن کی حمایت میں آواز بلند کی ہے۔ انھوں نے منگل کے روز پارلیمنٹ احاطہ میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ کتاب میں کیے گئے ’غیر سہولت آمیز‘ انکشافات سے حکومت گھبرائی ہوئی ہے۔ راہل گاندھی نے اس تنازعہ کو ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ سے بھی جوڑا۔

میڈیا اہلکاروں سے غیر رسمی بات چیت کے دوران راہل گاندھی نے ’پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا‘ کے اس دعویٰ کی تردید کی کہ سابق فوجی چیف جنرل ایم ایم نروَنے کی کتاب شائع نہیں ہوئی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر موجود پوسٹ کا حوالہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جنرل نروَنے نے خود ٹوئٹ کر امیزن لنک شیئر کیا تھا اور کتاب کی دستیابی سے متعلق جانکاری دی تھی۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ نے زور دے کر کہا کہ وہ پبلشر سے زیادہ سابق فوجی چیف کی بات پر بھروسہ کرتے ہیں۔

جنرل نروَنے کی متنازعہ کتاب ’فور اسٹارس آف ڈیسٹنی‘ کے بارے میں راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ اس کتاب میں کچھ ایسی باتیں لکھی گئی ہیں جو مرکزی حکومت اور پی ایم مودی کے لیے پریشان کرنے والی ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ لوگوں کو خود طے کرنا ہوگا کہ ’پینگوئن‘ سچ کہہ رہا ہے یا سابق فوجی چیف۔ کانگریس لیڈر نے ایک پوسٹر بھی نامہ نگاروں کو دکھایا جس میں ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ہوئے حالیہ تجارتی معاہدہ کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ اہم ایشو یہ ہے کہ وزیر اعظم مودی نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے سامنے پوری طرح خود سپردگی کر دی ہے۔ اسی وجہ سے یہ معاہدہ ہوا ہے۔ اس دوران انھوں نے ’ایپسٹین فائلز‘ کا بھی ذکر کیا۔