ایسے وقت میں جبکہ سماج کو ہندو اور مسلم کے خانہ میں تقسیم کرنے کی کوششیں اپنے عروج پر ہیں، اتوار کو لکھنؤ یونیورسٹی کے طلبہ نے قومی یکجہتی کا غیر معمولی پیغام دیا۔ یہاں کیمپس میں لال بارہ دری عمارت میں واقع مسجد پر اتوار کی دوپہر اچانک تالا لگادیئے جانے پر غیر مسلم طلبہ نے نہ صرف مسلم طلبہ کے ساتھ شانہ بہ شانہ احتجاج کیا بلکہ اُن کے ساتھ کھلے میدان میں افطاری کی اور کیمپس میں خود انسانی زنجیر بنا کر سیکوریٹی فراہم کرتے ہوئے مسلم طلبہ کیلئے باجماعت نماز کا اہتمام کروایا۔
لکھنؤ یونیورسٹی کے کیمپس میں واقع لال بارہ دری عمارت کے ایک چھوٹے سے حصہ میں مسجد ہے، پوری عمارت محکمہ آثار قدیمہ کے تحت آتی ہے۔ یہاں عرصہ دراز سے جمعہ اور پنج وقتہ نماز ادا کی جاتی ہے۔ اتوار کو مسجد کے دروازے کو بند کرتے ہوئے بیریکیڈنگ کردی گئی۔ مسلم طلبہ ظہر کی نماز ادا کرنے پہنچے تو مسجد کا درازہ بند دیکھ کر انہوں نے صدائے احتجاج بلند کی۔ ان کے ساتھ سماجوادی چھاتر سبھا، این ایس یو آئی، اور بائیں محاذ کی طلبہ تنظیم کے کارکنوں اور غیر مسلم طلبہ نے بھی مسلم طلبہ کا اس احتجاج میں ساتھ دیا۔
افطار کے بعد ہندو طلبہ نے انسانی زنجیر بنائی اور مسلم طلبہ نے نماز ادا کی۔ جس وقت یہ خبر لکھی جارہی ہے، یونیورسٹی کے طلبہ مسجد کے دروازے کھولنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دھرنے پر بیٹھے ہیں جبکہ یوپی سرکار نے وہاں کئی تھانوں کی پولیس فورس کو تعینات کردیاہے۔
لکھنؤ یونیورسٹی میں طلبہ لیڈر توقیر غازی نے بتایاکہ جس عمارت میں مسجد ہے وہ ۱۸۲۰ء میں تعمیر ہوئی تھی اور یہ محکمہ آثار قدیمہ کے تحت محفوظ عمارتوں میں آتی ہے۔ یہاں یونیورسٹی کے قیام سے قبل سے نماز پڑھی جارہی ہے۔ آج عمارت کے مخدوش ہونے کی بات کہہ کر یونیورسٹی انتظامیہ نے مسجد کے دروازے کو بند کر دیا اور دیوارکھڑی کردی۔ انہوں نے بتایاکہ فجرکی نماز یہاں میں نے خود پڑھی جبکہ ظہر کی نماز میں مسجد کے دروازے کو بند کرتے ہوئے بیریکیڈنگ کردی گئی۔ ہم لوگوں نے بیریکیڈتوگرادیا لیکن مسجد میں تالا لگا ہواہے۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ جب تک مسجد کا دروازہ نہیں کھولاجاتا ہے، ہم یہیں باہر نماز اداکریں گے، یہیں افطار اور دیگر سارے کام کریں گے۔
دھرنے میں شامل مہیندر نے بتایاکہ یہاں بات ہندو مسلمان کی نہیں ہے، بات مذہبی آزادی کی ہے۔ رمضان کے مہینے میں مسجد کا دروازہ بند کردیا گیا جبکہ یہاں ۲۰۰؍سال سے نماز ادا کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حرکت آئین مخالف ہے اور شرمناک ہے۔ آئین کا آرٹیکل ۲۵؍سے ۲۸؍ہمیں مذہبی آزادی دیتا ہے، انہوں نے سوال کیا کہ کیا اب ہندوستانیوں کوپوجا اور نماز سے روکا جائےگا؟ یہ عمارت محکمہ آثار قدیمہ (اے ایس آئی) کے تحت آتی ہے، سوال یہ ہے کہ کس کے حکم پر ایسی حرکت کی گئی ہے۔ ہم سب پوری مضبوطی کےساتھ کھڑے ہیں، جب تک مسجد کا دروازہ نہیں کھولاجاتا، ہم یہاں سے نہیں اٹھیں گے۔ طلبہ لیڈر احمد رضا خان نے بتایاکہ عمارت ۱۸؍ویں صدی میں تعمیر ہوئی تھی، یونیورسٹی کے قیام سے قبل سے یہاں نماز ہوتی آرہی ہے۔ حالیہ دنوں میں جب سے بی جے پی اور آر ایس ایس کے لوگوں کی سرگرمی بڑھی ہے، تب سےیونیورسٹی میں مذہبی منافرت پھیلائی جارہی ہے۔ طالب علم پرنس پرکاش کا کہناہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس یونیورسٹی میں فرقہ واریت پھیلارہے ہیں۔ انہوں نے شکایت کی کہ جب سے نئے وائس چانسلر آئے ہیں، مسلسل تنازعات ہورہے ہیں۔
وہیں، یونیورسٹی کی رجسٹرار بھاونا مشرا نے بتایاکہ لال بارہ دری کی عمارت مخدوش ہے۔ سپرنٹنڈنٹ برائے تعمیرات کو فینسنگ لگانے کے لئے کہا گیا تھا۔ ساتھ ہی حسن گنج پولیس کو پہلے سے اطلاع دیتے ہوئے پولیس فورس تعینات کرنے کے لئے کہاگیا ہے۔ اتوار کو کام شروع کیاگیا اس میں جو بھی رکاوٹ پیدا کرے گا، اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائےگی۔ تادم تحریر متعدد طلبہ تنظیموں کے کارکنان بلا تفریق مذہب و ملت دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ پولیس نے طلبہ کو بیریکیڈنگ لگا کر روکنے کی کوشش کی، لیکن طلبہ نے بیریکیڈنگ ہٹاتے ہوئے مسجد کے باہر کے حصہ میں نماز ادا کی اور وہیں دھرنے پر بیٹھ کر نعرے بازی کررہےہیں۔
