جموں یونیورسٹی کے نصاب میں تبدیلی اور فکری تنگ نظری پر اٹھتے سوالات…ہارون ریشی


ہارون ریشی
جموں یونیورسٹی کے پوسٹ گریجویٹ سیاسیات کے نصاب سے محمد علی جناح، ڈاکٹر محمد اقبال اور سر سید احمد خان کے تذکرے کو ہٹانے کی حالیہ تجویز نے ان حلقوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے جو تعلیمی آزادی کو اہمیت دیتے ہیں اور تاریخ کے مختلف زاویوں کو مٹانے کے مخالف ہیں۔ ناقدین نے خبردار کیا ہے کہ یہ قدم اہم تاریخی بیانیوں کو ختم کرنے اور جدید ہندوستانی تاریخ کو نئے سرے سے لکھنے کی ایک خطرناک کوشش ہے۔ اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ فیصلہ غیر معمولی تیزی سے لیا گیا—محض چار دنوں کے اندر ان ناموں کو نصاب سے ہٹانے کی سفارش کو منظوری دے دی گئی۔

یہ تنازع 20 مارچ کو اس وقت شروع ہوا جب اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) نے ’اقلیت اور قوم‘ کے پرچے میں محمد علی جناح کو شامل کیے جانے کی مخالفت کی۔ اس کے فوراً بعد جموں یونیورسٹی کے وائس چانسلر امیش رائے نے نصاب کے جائزے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی۔ پروفیسر نریش پاڈھا کی سربراہی میں قائم اس کمیٹی نے ایم اے سیاسیات کے نصاب سے محمد علی جناح، سر سید احمد خان اور ڈاکٹر محمد اقبال سے متعلق تمام مواد کو ہٹانے کی سفارش کر دی۔

جموں یونیورسٹی کے شعبۂ سیاسیات کے سربراہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ 22 مارچ 2026 کو ہونے والی شعبہ جاتی امور کی کمیٹی (ڈی اے سی) کی میٹنگ میں تفصیلی غور و خوض کے بعد متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ ایک سالہ اور دو سالہ پوسٹ گریجویٹ پروگرام کے متعلقہ کورسز سے ان شخصیات سے وابستہ موضوعات کو نکال دیا جائے۔

اس سفارش کو بورڈ آف اسٹڈیز کے پاس بھیجا گیا، جس کی 24 مارچ کو آن لائن میٹنگ ہونا طے تھی تاکہ اس پر بحث کے بعد حتمی فیصلہ لیا جا سکے۔ اگرچہ اس میٹنگ کے فیصلے کو عوامی سطح پر جاری نہیں کیا گیا، لیکن عام تاثر یہی ہے کہ ان تبدیلیوں کو منظوری دے دی گئی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ تمام عمل نہایت کم وقت میں، بغیر کسی عوامی بحث، ماہرین سے مشورے اور دیگر تعلیمی اداروں سے رائے لیے مکمل کر لیا گیا۔

سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس فیصلے کے خلاف خاطر خواہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ نہ کسی بڑے تعلیمی ادارے نے اس کی مخالفت کی، نہ کسی تجربہ کار ماہر تعلیم نے کھل کر آواز اٹھائی اور نہ ہی سول سوسائٹی کی جانب سے کوئی مضبوط احتجاج سامنے آیا۔ گجر بکر وال اسٹوڈنٹس الائنس (جی بی ایس اے) کے ترجمان عامر چوہدری، جنہوں نے اس فیصلے کی مخالفت کی، نے کہا کہ ان کی مہم کو سول سوسائٹی اور حتیٰ کہ لبرل تعلیمی حلقوں کے کچھ حصوں سے بھی خاطر خواہ حمایت نہیں مل سکی۔ ان کے مطابق، انہیں اس پر حیرت نہیں ہوئی کیونکہ یونیورسٹی میں "بھگوا کاری” کی کوششیں پہلے سے جاری تھیں اور اب وہ کامیاب ہو گئی ہیں۔

انہوں نے اس رجحان کی ایک اور مثال دیتے ہوئے کہا کہ اے بی وی پی اور بی جے پی نے یونیورسٹی پر دباؤ ڈالا کہ 13 مارچ کو منعقد ہونے والے دو روزہ ثقافتی پروگرام کے عنوان سے ‘جموںئیت’ کا لفظ ہٹا دیا جائے۔ ان کے مطابق اس پروگرام کا اصل نام ‘جموئیت: ادب و ثقافت کا سنگم’ تھا، مگر اسے اس بنیاد پر بدل دیا گیا کہ یہ ایک اردو لفظ ہے۔

سینئر ماہر تعلیم پروفیسر نور احمد بابا، جو کشمیر یونیورسٹی کے شعبۂ سیاسیات کے سابق سربراہ رہ چکے ہیں، نے اس فیصلے کو "مضحکہ خیز” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات کسی بھی اس یونیورسٹی کے شایانِ شان نہیں جو اعلیٰ تعلیم اور مختلف نظریات کا مرکز سمجھی جاتی ہے۔ ان کے مطابق تاریخ کو رد نہیں کیا جا سکتا، اور جن شخصیات کو نصاب سے نکالا جا رہا ہے، انہوں نے جدید ہندوستانی تاریخ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہیں ہیرو یا ولن کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، مگر ان کے اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

سیاسی تجزیہ کار اور اردو روزنامہ ‘تسکین’ کے مدیر سہیل کاظمی نے اس معاملے کو ایک وسیع تر رجحان کا حصہ قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ صرف ایک یونیورسٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے جموں خطے کو ایک مخصوص نظریاتی سمت میں ڈھالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جموں بتدریج ایسے سرگرمیوں کا مرکز بنتا جا رہا ہے جو اس کے ماضی کے سیکولر اور جمہوری مزاج سے مختلف ہیں۔

انہوں نے ماضی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ 2011 میں جموں میں ‘جشنِ فیض’ کا انعقاد کیا گیا تھا، جس میں ہندوستان اور پاکستان کے معروف دانشوروں اور ادیبوں کو مدعو کیا گیا تھا۔ اس پروگرام کو ہندوستانی کونسل برائے ثقافتی تعلقات (آئی سی سی آر) کی جانب سے مالی تعاون حاصل تھا اور اس وقت ڈاکٹر کرن سنگھ نے اس میں نمایاں کردار ادا کیا تھا۔ اس کے علاوہ اس وقت کے پولیس سربراہ کلدیپ کھوڑا نے بھی مختلف سطحوں پر تعاون فراہم کیا تھا۔ آج کے حالات میں اس نوعیت کا کوئی پروگرام منعقد کرنا تقریباً ناممکن دکھائی دیتا ہے۔

سہیل کاظمی کا ماننا ہے کہ نصاب سے مسلم شخصیات کے تذکرے کو ہٹانا ہر اس فرد کے لیے باعث تشویش ہونا چاہیے جو تعلیم کی اخلاقیات پر یقین رکھتا ہے۔ ان کے مطابق تعلیم کو مذہبی اور سیاسی تعصبات سے پاک رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ شخصیات کسی انتہاپسند پس منظر کی حامل ہوتیں تو ان کے اخراج پر بات ہو سکتی تھی، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ہندوستان کی سیاسی و فکری تاریخ کی نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔

آخر میں عامر چوہدری نے ایک اہم سوال اٹھایا کہ کیا یونیورسٹی انتظامیہ طلبہ کو ہندوستانی تاریخ کی ان اہم شخصیات کے بارے میں جاننے کے حق سے محروم کر سکتی ہے؟ ان کے مطابق اگر تعلیمی ادارے تاریخ کے اہم پہلوؤں کو نظر انداز کریں گے تو وہ ایسی نسل تیار کریں گے جو علم اور بصیرت کے بجائے محدود فہم اور لاعلمی کا شکار ہوگی۔