ملک میں اپوزیشن پارٹیوںکے ذریعہ الیکشن کمیشن پر جانبداری کے الزامات کے درمیان سپریم کورٹ کی جسٹس بی وی ناگرتنا نےکہا کہ اگر آئینی نظم و نسق کو برقرار رکھنا ہے تو الیکشن کمیشن آف انڈیا جیسے اداروں کو آزادانہ طور پر کام کرنا چاہئے۔ہندوستان کی جمہوریت میں الیکشن کمیشن کے کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے جسٹس ناگرتنا نے کہا کہ انتخابات محض وقفہ وقفہ سے ہونے والے واقعات نہیں بلکہ ایک طریقہ کار ہے جس کے ذریعے سیاسی اتھاریٹی کی تشکیل ہوتی ہے۔الیکشن کمیشن،سی اے جی اور فائنانس کمیشن کو ایک مشترکہ منطق کے تحت ڈیزائن کیا گیا تاکہ اس کے ماہرین اپنے شعبوں کی نگرانی کرسکیں جہاں عام سیاسی عمل غیر جانبداری کو یقینی بنانے کے لئے ناکافی ہو سکتا ہے۔پٹنہ کی چانکیہ نیشنل لاء یونیورسٹی میںاولین ڈاکٹر راجندر پرساد میموریل لیکچر دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی اہم ہے کہ یہ ادارے آزادانہ طور پر کام کریں اور سیاسی عمل سے متاثر نہ ہوں۔
جسٹس ناگرتنا نے کہاکہ ہماری آئینی جمہوریت نے بروقت انتخابات کے انعقاد کی وجہ سے حکومت میں ہموار تبدیلیوں کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔ اس عمل پر کنٹرول دراصل سیاسی مقابلے کے حالات پر کنٹرول ہے۔جسٹس ناگرتنا نے ٹی این سیشن بمقابلہ یونین آف انڈیا مقدمہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میںالیکشن کمیشن کو ایک اعلیٰ اہمیت کی آئینی اتھاریٹی کے طور پر تسلیم کیا گیا، جسے انتخابات کی سالمیت کو یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔اسی وجہ سے اگر انتخابات کرانے والے انتخابات لڑنے والوں پر منحصر ہیں، تو اس عمل کی غیر جانبداری کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔
آئین کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے جسٹس ناگرتنانے یہ بھی کہا کہ حقوق کی پائیداری کا انحصار ان اداروں کی دیانتداری پر ہے جو ان کی تشریح اور نفاذ کرتے ہیں۔انہوںنے کہا کہ تاریخ کا ناقابل تردید سبق یہ ہے کہ آئین کا انہدام اس کے ڈھانچے کو غیر فعال کرنے سے ہوتا ہے اور حقوق کی خلاف ورزی صرف اس کے بعد ہوتی ہے۔ ڈھانچے کی توڑ پھوڑ اس وقت ہوتی ہے جب ادارے ایک دوسرے کی جوابدہی یقینی بنانے کو ترک کردیتے ہیں۔اس لمحے میں انتخابات جاری رہ سکتے ہیں، عدالتیں کام کر سکتی ہیں، پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی ہوسکتی ہےاور پھر بھی اختیار کو مؤثر طریقے سے حد میں نہیں رکھا جاسکتا کیونکہ اس کے نظام میں مزید نظم و ضبط موجود نہیں۔مرکز اور ریاستی تعلقات پر بات کرتے ہوئے جسٹس ناگرتنا نے کہا کہ آئین کے تحت طے شدہ امور کے علاوہ ریاستی حکومتیں مرکزی حکومت کے ماتحت نہیں ہیں۔ اس لئے ریاستی حکومتوں کے ساتھ وہ سلوک کیا جانا چاہئے جس کی وہ حقدار ہیں، قطع نظر اس کے کہ چاہے جو سیاسی پارٹی اقتدار میں ہو۔انہوں نے ریاستوں کے ساتھ غیر مساوی سلوک کے خلاف بھی خبردار کیا۔ جسٹس ناگرتنا نے کہا کہ جب ریاست کے شہریوں کے لئے ترقیاتی پروگرام ہوں تو کسی ریاست کو منتخب کرنے یا نہ کرنے کا طریقہ کار نہیں ہوسکتا۔ ایک منصفانہ نقطہ نظر کے معاملے میں مساوات کو اپنانا چاہئے۔اس تناظر میں انہوں نے کہا کہ مرکز اور ریاستوں کے درمیان تنازعات میں اضافہ ملک کے لئے اچھا نہیں ہے۔اس سے حکمرانی کی آئینی شکل میں گڑبڑ پیدا ہوتی ہے جس سے ہمیشہ گریز کیا جانا چا ہئے۔ملک کی مضبوطی آئینی بنیادوں اور اصولوں پر مبنی ہے۔
