مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی یعنی ایس آئی آر سے متعلق ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں 27 لاکھ سے زائد اپیلوں میں سے ٹریبونل نے صرف 500 اپیلیں منظور کی ہیں، جبکہ ان میں بھی محض 137 افراد کو سپلیمنٹری ووٹر لسٹ میں شامل کرکے ووٹ ڈالنے کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ معاملہ ریاستی انتخابات سے عین قبل سیاسی اور قانونی حلقوں میں توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق لاکھوں افراد نے ووٹر لسٹ سے نام خارج ہونے یا نااہل قرار دیے جانے کے بعد ٹریبونل سے رجوع کیا تھا، تاہم اب تک صرف محدود تعداد میں درخواستوں پر فیصلہ سامنے آیا ہے۔ 500 کیسوں کی سماعت کے بعد صرف 137 افراد کو ووٹر لسٹ میں شامل کیا گیا، جس کے بعد وہ آئندہ مرحلوں کی پولنگ میں اپنا ووٹ استعمال کر سکیں گے۔
اس معاملے میں سپریم کورٹ نے حالیہ دنوں اہم مداخلت کرتے ہوئے کہا تھا کہ جن افراد کی اپیل ٹریبونل منظور کرے گا، انہیں 23 اور 29 اپریل کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جائے۔ عدالت عظمیٰ نے اس مقصد کے لیے آئین کے آرٹیکل 142 کے خصوصی اختیارات استعمال کیے تھے، تاکہ متاثرہ شہریوں کے حق رائے دہی کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے جمہوریت کے حق میں قدم قرار دیا تھا۔ مغربی بنگال میں دو مرحلوں میں ووٹنگ ہونی ہے، جس کے تحت پہلے مرحلے میں 23 اپریل کو 152 نشستوں پر جبکہ دوسرے مرحلے میں 29 اپریل کو 142 نشستوں پر ووٹنگ ہوگی۔
اعداد و شمار کے مطابق ایس آئی آر عمل شروع ہونے سے قبل مغربی بنگال میں ووٹروں کی مجموعی تعداد 7 کروڑ 66 لاکھ 37 ہزار 529 تھی۔ 28 فروری کو جاری پہلی فہرست میں تقریباً 63 لاکھ 66 ہزار نام خارج کیے گئے، جبکہ 60 لاکھ سے زائد ناموں کو مزید جانچ کے لیے روک دیا گیا تھا۔
بعد ازاں ان میں سے 27 لاکھ 16 ہزار 393 افراد کو نااہل قرار دیا گیا، جبکہ 32 لاکھ 68 ہزار 119 افراد کو اہل قرار دے کر دوبارہ فہرست میں شامل کیا گیا۔ اس عمل کے بعد ووٹروں کی تعداد کم ہو کر 6 کروڑ 77 لاکھ 20 ہزار 728 رہ گئی تھی۔
پہلے مرحلے کے انتخاب سے قبل مزید 7 لاکھ نئے ووٹرز شامل کیے گئے، جس کے بعد مجموعی ووٹر تعداد بڑھ کر 6 کروڑ 82 لاکھ 51 ہزار 8 ہو گئی۔ ان نئے ووٹرز میں سے تقریباً 3 لاکھ 22 ہزار افراد پہلے مرحلے میں جبکہ باقی 3 لاکھ 88 ہزار دوسرے مرحلے میں ووٹ ڈالیں گے۔
بنگال میں ووٹر لسٹ کی نظر ثانی نے انتخابی شفافیت، شہری حقوق اور سیاسی اعتماد سے متعلق کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ لاکھوں اپیلوں میں سے صرف چند سو فیصلے اور صرف 137 افراد کو ووٹ کی اجازت اس پورے عمل کی رفتار اور مؤثریت پر سنجیدہ بحث چھیڑ رہی ہے۔




