نئی دہلی/ کولکاتا: مغربی بنگال کے جنوبی 24 پرگنہ ضلع کے باروئی پور علاقے میں ایک 11 سالہ معصوم بچی کی عصمت دری اور بہیمانہ قتل کے بعد شدید عوامی غصہ پھوٹ پڑا ہے۔ اتوار کے روز بچی کی بوری بند لاش برآمد ہونے کے بعد علاقے میں حالات اس وقت انتہائی کشیدہ ہو گئے جب مشتعل ہجوم نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے اس گھناؤنے جرم کے ایک ملزم کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا۔ پولیس نے اس سنسنی خیز معاملے میں اب تک چار دیگر مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے کی تصدیق کی ہے۔
دستیاب رپورٹس کے مطابق باروئی پور کے سوریہ پور ہاٹ علاقے میں پانچ جولائی کو ایک معصوم بچی کی لاش بند بوری سے برآمد ہوئی تھی۔ اس ہولناک واقعے کی خبر پھیلتے ہی مقامی لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور شدید احتجاج شروع کر دیا۔ مظاہرین نے باروئی جے نگر شاہراہ کو بلاک کر کے ٹائر جلائے اور ملزمین کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ اس دوران ہجوم کا غصہ اس وقت بے قابو ہو گیا جب انہوں نے پولیس کی گاڑیوں کو نشانہ بنایا اور توڑ پھوڑ کی۔ اسی ہنگامے کے دوران مظاہرین نے جرم میں ملوث ہونے کے شبہ میں ایک شخص کو دبوچ لیا اور اس پر وحشیانہ تشدد کیا، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔
پریزیڈنسی رینج کے پولیس انسپکٹر جنرل کانکر پرساد بروئی نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ ایک ملزم شخص ہجوم کے تشدد میں مارا گیا ہے۔ انہوں نے عوام سے امن و امان برقرار رکھنے اور سڑکوں سے جام ہٹانے کی اپیل کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ اس ہولناک جرم میں ملوث تمام مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دیگر مفرور قصورواروں کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ عوامی احتجاج کے بعد پولیس نے لاش کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ہے تاکہ موت کی اصل وجوہات اور جنسی زیادتی کی سائنسی تصدیق ہو سکے۔
اس سنگین معاملے پر اب ریاست میں اعلیٰ ترین سطح پر سیاسی سرگرمیاں اور بیانات بھی سامنے آنے لگے ہیں۔ مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری نے متاثرہ بچی کے والد سے فون پر بات چیت کی اور غمزدہ خاندان سے گہری تعزیت کا اظہار کیا۔ وزیر اعلیٰ نے متاثرہ خاندان کو یقین دلایا کہ حکومت اس کیس کی تیز رفتار انکوائری کو یقینی بنائے گی اور مجرموں کو سخت ترین قانونی سزا دلائی جائے گی۔ پولیس انسپکٹر جنرل نے بتایا کہ وہ خود مقتول بچی کے والدین سے ملاقات کر کے ہر ممکنہ سرکاری مدد فراہم کریں گے۔
دوسری جانب اس وحشیانہ واقعے نے ریاست میں ایک نیا سیاسی تنازع بھی کھڑا کر دیا ہے۔ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے سینئر رہنما اور رکن پارلیمنٹ ابھشیک بنرجی نے اس معاملے پر بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر الزام لگایا کہ سیاسی اثر و رسوخ کے باعث تفتیش کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی خواتین کے تحفظ کے بڑے بڑے وعدے کر کے بنگال کے اقتدار میں آئی تھی، لیکن اس طرح کے واقعات ان کے کھوکھلے دعووں اور ریاست میں امن و امان کی دگرگوں صورتحال پر سنگین سوالیہ نشان کھڑے کرتے ہیں۔ انسانی حقوق کے علمبرداروں نے بھی معصوم بچی کے قتل اور ہجوم کے ذریعے قانون ہاتھ میں لینے، دونوں واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔




