نئی دہلی : وزیر اعظم نریندر مودی نے یومِ آزادی کے موقع پر تاریخی لال قلعہ کی فصیل سے قوم سے خطاب کرتے ہوئے 2047 تک ہندوستان کو ترقی یافتہ ملک بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے ملک کی خود کفالت، توانائی اور دفاعی سلامتی، نوجوانوں کی تربیت، خواتین کی سیاسی نمائندگی، کھیل، بنیادی ڈھانچے اور عالمی سطح پر ہندوستان کی معاشی حیثیت کو مزید مستحکم کرنے سمیت متعدد اہم امور پر حکومت کی ترجیحات اور مستقبل کے اہداف پیش کیے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان اب نئے عزم اور نئے خوابوں کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے اور دنیا کا ہندوستان کے بارے میں نقطۂ نظر بھی تبدیل ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو دوسروں پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے مفادات کا تحفظ خود کرنا ہوگا اور خود کفیل ہندوستان ہی ترقی یافتہ ہندوستان کی بنیاد بنے گا۔
خود کفالت اور توانائی پر خصوصی توجہ
اپنے خطاب میں نریندر مودی نے سیمی کنڈکٹر، اہم معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں خود کفالت کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں تین سیمی کنڈکٹر پلانٹ شروع ہوچکے ہیں، جبکہ آئندہ مزید چار سے پانچ پلانٹ شروع کیے جائیں گے۔ انہوں نے 2047 تک ہندوستان میں 100 گیگا واٹ جوہری توانائی پیدا کرنے کا ہدف بھی پیش کیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ برسوں کے دوران بنیادی ڈھانچے، گیس کنکشن اور دفاعی پیداوار کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ 12 برسوں میں دفاعی پیداوار میں چار گنا اضافہ ہوا ہے، جبکہ میٹرو سمیت جدید شہری بنیادی ڈھانچے کے دائرے کو بھی وسیع کیا گیا ہے۔
ہندوستانی مصنوعات کو عالمی منڈی تک پہنچانے کا عزم
وزیر اعظم نے ہندوستانی مصنوعات کو عالمی سطح پر پہنچانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو ایسی مصنوعات تیار کرنا ہوں گی جو معیار اور قیمت دونوں اعتبار سے دنیا کا مقابلہ کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان تقریباً 40 ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدوں کے ذریعے عالمی تجارت میں اپنی جگہ مضبوط کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2047 کا ہدف مضبوط بنیادوں پر قائم ہے، تاہم اس کے لیے سوچ اور کام کرنے کے انداز میں تبدیلی لانا ہوگی۔ ان کے بقول جو کام گزشتہ پانچ دہائیوں میں نہیں ہوسکے، انہیں آئندہ پانچ برسوں میں مکمل کرنے کی رفتار پیدا کرنا ہوگی۔
کھیلوں میں ٹیلنٹ کی تلاش اور اولمپکس کی میزبانی
کھیلوں کے حوالے سے وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان 2030 کے اولمپک مقابلوں کی میزبانی کرے گا اور ان کی خواہش ہے کہ 2036 کے اولمپکس بھی ہندوستان میں منعقد ہوں۔ انہوں نے گاؤں اور شہروں سے کھیلوں کے نئے ٹیلنٹ کو تلاش کرکے انہیں مناسب تربیت فراہم کرنے اور ملک گیر سطح پر ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام شروع کرنے کی بات کہی۔
انہوں نے ہندوستانی بینکوں اور دوا ساز کمپنیوں کو عالمی سطح پر مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ ہندوستان کی کم از کم ایک بینک کو دنیا کے پانچ بڑے بینکوں میں شامل ہونا چاہیے، جبکہ عالمی سطح کی پانچ بڑی فارما کمپنیوں میں ہندوستان کی دو یا تین کمپنیوں کی موجودگی ہونی چاہیے۔
نوجوانوں کے لیے اے آئی تربیت اور مفت کوچنگ
وزیر اعظم نے نوجوانوں کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کی تربیت کو بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل کرتے ہوئے کہا کہ ایک سال میں ایک کروڑ نوجوانوں کو اے آئی ہنر سے آراستہ کرنے کا ہدف رکھا جائے گا۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کو سستا انٹرنیٹ ڈیٹا اور غریب و متوسط طبقے کے طلبہ کے لیے مفت آن لائن کوچنگ فراہم کرنے کی بات بھی انہوں نے کہی۔
کسانوں اور مہنگائی کا ذکر
مہنگائی کے مسئلے پر وزیر اعظم نے کہا کہ یوریا کی عالمی قیمت میں اضافہ ہوا، لیکن حکومت نے اس کا بوجھ کسانوں پر نہیں پڑنے دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہندوستان میں کسانوں کو یوریا تقریباً 300 روپے میں فراہم کیا جاتا ہے، جبکہ عالمی سطح پر اس کی قیمت تقریباً 3000 روپے ہے۔ انہوں نے ڈی اے پی کی قیمت 1350 روپے بتائی۔
بحرانوں اور افواہوں کا حوالہ
وزیر اعظم نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران ملک کو درپیش مختلف بحرانوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بعض لوگوں کو ملک کو تشویش میں مبتلا رکھنے میں دلچسپی ہے۔ انہوں نے جنگ کے دوران تیل اور گیس کی قلت سے متعلق پھیلائی جانے والی افواہوں کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ہندوستان نے ایسے چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے اپنی صلاحیت ثابت کی ہے۔
توانائی، گیس اور ریلوے میں پیش رفت کا دعویٰ
انہوں نے بتایا کہ ملک میں 99 فیصد ’نو گو ایریا‘ کو ’گو اہیڈ ایریا‘ میں تبدیل کیا جاچکا ہے اور ’سمندر منتھن‘ منصوبے کے لیے 85 ہزار کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق 2014 سے قبل 70 شہروں میں پائپ کے ذریعے گیس پہنچتی تھی، جبکہ اب یہ سہولت 700 شہروں تک پہنچ چکی ہے۔
ریلوے کے شعبے میں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ 10 برسوں میں ریلوے کی 70 فیصد بجلی کاری مکمل کی گئی، جبکہ ملک میں پہلی بار ہائیڈروجن سے چلنے والی ٹرین بھی چلائی گئی۔
خواتین کی سیاسی نمائندگی پر زور
خواتین کی سیاسی نمائندگی کے حوالے سے وزیر اعظم نے ناری شکتی وندن ایکٹ کا ذکر کرتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ خواتین کو 33 فیصد نمائندگی دینے کے لیے آگے آئیں۔
نکسلزم کے خلاف کامیابی کا دعویٰ
نریندر مودی نے نکسلزم اور ماؤازم کو نوجوانوں اور ملک کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تشدد پر مبنی نکسلزم اب کمزور پڑ چکا ہے، تاہم انہوں نے ’ذہنی نکسلزم‘ سے بھی محتاط رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔
آخر میں وزیر اعظم نے ترقی یافتہ ہندوستان کے لیے ایک نئی سمت اختیار کرنے پر زور دیتے ہوئے پیداوار کے ہر شعبے میں چھوٹے پرزوں سے لے کر بڑی مصنوعات تک ملک میں تیار کرنے، پیداواری لاگت کم رکھنے، معیار بہتر بنانے اور بڑے پیمانے پر پیداوار کی صلاحیت پیدا کرنے کو ضروری قرار دیا۔




