ایس آئی آر سے باہر ہونے والوں کے لیے راشن اور بینکنگ سہولیات بند کرنے کی تیاری

مغربی بنگال اور بہار کی نو منتخب حکومتوں نے ایک ایسا فیصلہ کیا ہے جس سے لاکھوں خاندانوں کے سروں پر معاشی اور سماجی بائیکاٹ کی تلوار لٹک گئی ہے۔ ریاستی حکومتوں نے اعلان کیا ہے کہ جن افراد کے نام اسٹیٹ انویسٹی گیشن رپورٹ (ایس آئی آر) میں شامل نہیں ہیں، وہ اب کسی بھی قسم کی سرکاری فلاحی اسکیم، راشن کارڈ اور بینکنگ سہولیات کے حقدار نہیں ہوں گے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لاکھوں افراد پہلے ہی شہریت ثابت کرنے کے لیے ٹربیونلز کے چکر کاٹ رہے ہیں اور ذہنی کرب کا شکار ہیں۔

مغربی بنگال کی نئی تشکیل شدہ بی جے پی حکومت نے اپنی پہلی کابینہ میٹنگ میں واضح کر دیا ہے کہ سابقہ حکومت کی تمام سماجی اسکیمیں جاری رہیں گی، لیکن ان کا فائدہ صرف ان لوگوں کو ملے گا جنہیں حکومت ‘ہندوستانی شہری’ تسلیم کرتی ہے۔ وزیر اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ مردہ افراد، غیر قانونی دراندازوں اور غیر ملکیوں کو بنگال کے شہریوں کے لیے مختص وسائل استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اگرچہ انہوں نے ان لوگوں کو عارضی راحت دینے کی بات کی ہے جن کے کیسز ٹربیونلز میں زیر سماعت ہیں، لیکن ‘غیر قانونی درانداز’ کی اصطلاح کے استعمال نے اقلیتی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔

دوسری جانب بہار میں صورتحال مزید سنگین دکھائی دے رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ سمرت چودھری نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ جن لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کر دیے گئے ہیں، وہ کسی بھی سرکاری فائدے کے حقدار نہیں ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مناسب وقت پر ایسے افراد کی بینک پاس بکس بھی منسوخ کر دی جائیں گی، جس کا مطلب یہ ہے کہ متاثرہ افراد اپنی جمع پونجی تک رسائی سے بھی محروم ہو سکتے ہیں۔ بہار کے وزیر خوراک اشوک چودھری نے تصدیق کی ہے کہ ایس آئی آر کی بنیاد پر اب تک ریاست میں تقریباً 5 لاکھ راشن کارڈ منسوخ کیے جا چکے ہیں۔

بنگال کے وزیر خوراک و رسد اشوک کرتانیا نے اس پالیسی کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جن کے نام ایس آئی آر سے کٹ گئے ہیں انہیں ‘غیر بھارتی’ تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے راشن کارڈوں کی بڑے پیمانے پر جانچ مہم شروع کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ ایسے افراد کو سرکاری فہرستوں سے الگ کیا جا سکے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ جو لوگ سی اے اے (شہریت ترمیمی قانون) کے تحت درخواست دیں گے، صرف انہیں ہی مراعات حاصل رہیں گی، جس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مخصوص برادریوں کو شہریت کے نئے اور متنازع قوانین کے تحت آنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

انسانی حقوق کے کارکنان اور قانونی ماہرین نے اس اقدام کو دستورِ ہند کی روح کے خلاف قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک کسی شخص کو عدالت حتمی طور پر غیر ملکی قرار نہ دے دے، اسے بنیادی ضروریاتِ زندگی جیسے راشن اور بینکنگ سے محروم کرنا بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اس فیصلے سے بنگال اور بہار کے سرحدی اضلاع میں بسنے والی اقلیتوں میں بے چینی بڑھ گئی ہے، جو دہائیوں سے یہاں مقیم ہونے کے باوجود اب خود کو اپنے ہی وطن میں بے گھر محسوس کر رہے ہیں۔

شیئر کریں۔