دنیا کو ہلا دینے والی غزہ کی 5سالہ ہند رجب کی سچی کہانی پر بنی فلم ہندوستان میں نمائش کے لیے تیار

غزہ میں اسرائیلی افواج کے ہاتھوں ہلاک ہونے والی پانچ سالہ فلسطینی بچی ہند رجب کی سچی اور دردناک کہانی پر مبنی آسکر نامزد فلم ’وائس آف ہند رجب‘ کو ہندوستان میں نمائش کے لیے سینسر سرٹیفکیٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن کی جانب سے منظوری ملنے کے بعد اب یہ فلم 19 جون 2026 کو ملک بھر کے سنیما گھروں کی زینت بنے گی۔ یہ فلم ابتدائی طور پر رواں سال مارچ میں ریلیز کی جانی تھی تاہم سینسر بورڈ کے پاس طویل عرصے تک زیر التوا رہنے کی وجہ سے اس کی نمائش مؤخر ہو گئی تھی۔

ہندوستان سمیت جنوبی ایشیائی ممالک پاکستان، سری لنکا، مالدیپ، افغانستان اور بنگلہ دیش میں اس فلم کی نمائش کے حقوق حاصل کرنے والی کمپنی جئے ویراترا انٹرٹینمنٹ لمیٹڈ کے ڈسٹری بیوٹر منوج نندوانا نے اس اہم پیش رفت پر گہرے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک باضابطہ بیان میں سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ نے فلم کی حساسیت اور اہمیت کو سمجھتے ہوئے اسے بغیر کسی کٹ کے پاس کیا ہے، جو ہندوستانی ناظرین کو ایک عظیم اور سچے انسانی تجربے سے روشناس کرانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ سنیما ہمیشہ سے معاشرتی مکالمے اور انسانی درد کو سمجھنے کا ایک طاقتور ترین ذریعہ رہا ہے۔

یہ فلم معروف تیونسی ہدایت کار کوثر بن ہانیہ کی تخلیق ہے، جنہوں نے ہند رجب کی المناک موت اور اس کے نتیجے میں اسرائیل غزہ جنگ کے دوران پیدا ہونے والے عالمی ردعمل کو انتہائی مہارت اور ذمہ داری کے ساتھ بڑے پردے پر اتارا ہے۔ فلم کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس میں کہانی کو سچا رکھنے کے لیے فلسطینی ریڈ کریسنٹ کے حقیقی امدادی کارکنوں کے کرداروں کو شامل کیا گیا ہے، جبکہ فلم کے پس منظر میں ہند رجب کی اصل آواز کی وہ آڈیو ریکارڈنگز استعمال کی گئی ہیں جو انہوں نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں مدد کے لیے بھیجی تھیں۔

واضح رہے کہ جنوری 2024 میں غزہ شہر سے انخلا کے دوران پانچ سالہ ہند رجب اپنے خاندان کے ساتھ ایک گاڑی میں سوار تھیں جب اسرائیلی افواج نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی تھی۔ اس حملے میں ہند رجب کے تمام رشتہ دار موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے تھے جبکہ معصوم بچی کئی گھنٹوں تک لاشوں کے درمیان محصور رہی۔ فلسطینی ریڈ کریسنٹ کی ایمرجنسی سروسز نے جب رابطہ کیا تو ہند رجب نے فون اٹھا کر روتے ہوئے اپنی جان بچانے کی اپیل کی تھی۔ اس واقعے کے کئی روز بعد ہند رجب، ان کے اہل خانہ اور انہیں بچانے کے لیے جانے والے دو امدادی کارکنوں کی لاشیں تباہ شدہ گاڑی سے کچھ ہی فاصلے پر برآمد ہوئی تھیں۔

موزمبیق سے لے کر واشنگٹن تک انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس واقعے کو جنگی جرائم کی بدترین مثال قرار دیا تھا۔ فلم کے ڈسٹری بیوٹر منوج نندوانا کا ماننا ہے کہ ’وائس آف ہند رجب‘ محض ایک فلم نہیں بلکہ تنازعات کی وہ انسانی قیمت ہے جو معصوم بچوں کو چکانی پڑتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ 19 جون کو ریلیز ہونے والی یہ فلم ناظرین کے اندر ہمدردی، بین الاقوامی انسانی اقدار کے احترام اور دنیا بھر میں امن کی ضرورت پر ایک مثبت اور سنجیدہ گفتگو کا آغاز کرے گی۔

شیئر کریں۔