جنوبی ریاست کیرالہ کے پہاڑی ضلع وائیناڈ سے ایک انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں کلپٹا کے قریب میناکشی برج کے پاس مٹی کا ایک بہت بڑا تودہ گرنے سے بڑے پیمانے پر تباہی مچی ہے۔ اس اچانک رونما ہونے والی قدرتی آفت کے نتیجے میں اب تک دو افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ سات افراد شدید زخمی اور کم و بیش سات دیگر تاحال لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔ یہ حادثہ اس مقام پر پیش آیا جہاں وائیناڈ اور ملاپورم اضلاع کو آپس میں جوڑنے والی مجوزہ زیر زمین سرنگ کی تعمیر کا کام تیزی سے جاری تھا۔ واقعے کے فوری بعد علاقے میں سنسنی خیز سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آئی ہے جس میں مٹی اور ملبے کے تیز بہاؤ کو اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو نگلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس سی سی ٹی وی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح چند سیکنڈوں کے اندر پہاڑی کا ایک بڑا حصہ تاش کے پتوں کی طرح نیچے آ گرا۔ ملبے کا یہ بہاؤ اس قدر شدید تھا کہ وہاں کھڑا ایک بڑا فیول ٹینکر ٹرک تنکے کی طرح بہہ گیا، جبکہ وہاں کام کرنے والے مزدور اور عام شہری اپنی جانیں بچانے کے لیے دیوانہ وار بھاگتے ہوئے نظر آئے۔ عینی شاہدین کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ اتنی اچانک ہوئی کہ کسی کو سنبھلنے کا موقع تک نہیں ملا اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا علاقہ ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گیا۔
کیرالہ کے وزیر صحت کے۔ مرلی دھرن نے اس حادثے میں دو ہلاکتوں کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وائیناڈ کے تمام اسپتالوں کو ہائی الرٹ پر رکھ دیا گیا ہے تاکہ زخمی مزدوروں کو فوری اور بہترین طبی امداد فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ابتدائی رپورٹس کے مطابق متاثر ہونے والے تمام افراد بیرونی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے مزدور ہیں اور مقامی آبادی محفوظ ہے۔ دوسری جانب کیرالہ کے وزیر اعلیٰ وی ڈی ستھیسن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس، فائر بریگیڈ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی ٹیمیں موقع پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں، جبکہ ریسکیو آپریشن کو تیز کرنے کے لیے تھریسور میں تعینات فوج کے دستوں کو بھی الرٹ پر رکھا گیا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر ان کی خدمات حاصل کی جا سکیں۔
تحقیقات کے دوران یہ چونکا دینے والا انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ اس تباہی کے پیچھے جہاں شدید بارشیں ایک وجہ تھیں، وہی متعلقہ ٹھیکیدار کی مجرمانہ لاپروائی بھی شامل ہے۔ وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور ضلع کلکٹر نے 20 جون کو ہی ایک سخت حکم نامہ جاری کیا تھا جس کے تحت سرنگ کی تعمیر کے دوران جمع ہونے والی مٹی اور ملبے کو وہاں سے فوری طور پر ہٹانے کی ہدایت دی گئی تھی تاکہ بارشوں کے موسم میں کسی حادثے سے بچا جا سکے، مگر ٹھیکیدار نے ان احکامات کو یکسر نظر انداز کر دیا۔ ریاستی حکومت نے اس غفلت کا سخت نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی اعلیٰ سطح پر انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔
فی الحال نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (NDRF) اور مقامی انتظامیہ کا مشترکہ ریسکیو آپریشن جنگی بنیادوں پر جاری ہے تاکہ ملبے کے نیچے دبے ہوئے لاپتہ افراد کو تلاش کیا جا سکے۔ حادثے کا شکار ہونے والے افراد کو فوری طور پر میپاڈی کے ڈبلیو آئی ایم ایس اسپتال منتقل کیا گیا ہے، جبکہ بے گھر ہونے والے متاثرین کے لیے چولیکا گورنمنٹ اسکول میں ایک ریلیف کیمپ قائم کر دیا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے وائیناڈ اور اس کے گردونواح کے علاقوں کے لیے شدید ترین بارشوں کا ‘ریڈ الرٹ’ جاری کر رکھا ہے، جس کے باعث امدادی ٹیموں کو مٹی کے مزید تودے گرنے کے خطرے کے سائے میں کام کرنا پڑ رہا ہے جو ریسکیو آپریشن میں بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہا ہے۔




