بیدر (فکروخبرنیوز) کرناٹک کے ضلع بیدر میں واقع بھالکی اسمبلی حلقے سے ایک تشویشناک معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں خصوصی نظرثانی ووٹر فہرست (SIR) کے دوران مسلم ووٹرز کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کرنے کی منظم کوشش کا انکشاف ہوا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق نسلوں سے ایک ہی علاقے میں مقیم مقامی شہریوں کے نام یہ دعویٰ کر کے کاٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وہ اب اس پتے پر رہائش پذیر نہیں ہیں۔
بھالکی کے سنگامیش تھیٹر کے قریب گزشتہ 37 سالوں سے زی موبائل (Zee Mobile) نامی دکان چلانے والے 56 سالہ وکیل احمد منشی نے بتایا کہ وہ 2002 سے یہاں کے ووٹر ہیں اور ڈرافٹ لسٹ میں بھی ان کا نام شامل تھا لیکن حال ہی میں پتہ چلا کہ ایک مقامی شخص سنگامیش نے فارم 7 جمع کر کے ان کی ووٹنگ اہلیت پر اعتراض درج کرایا ہے۔ وکیل احمد نے سوال اٹھایا کہ "ایک ہی شخص اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کے ناموں پر کیسے اعتراض کر سکتا ہے؟ مخصوص برادری کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔”
رپورٹس کے مطابق 24 ستمبر کو اعتراضات درج کرانے کی آخری تاریخ سے قبل محض 48 گھنٹوں کے اندر 525 نئی اعتراضات کی درخواستیں جمع کی گئیں جن میں سے اکثریت کا ہدف مسلم ووٹرز تھے۔ حیرت انگیز طور پر ان میں سے 523 درخواستیں صرف 20 افراد کے ایک مخصوص گروپ کی جانب سے داخل کی گئی ہیں۔ اس سے قبل بھی بھالکی اور بابلیشور حلقوں میں تقریباً 3,909 ووٹرز کے ناموں پر اسی نوعیت کے اعتراضات اٹھائے گئے تھے۔
اسی طرح ووٹر مرتضیٰ منیار کے بیٹے مفید نے بتایا کہ ان کا خاندان تین نسلوں سے اسی علاقے میں مقیم ہے، لیکن ‘پانڈو رنگا’ نامی شخص نے یہ کہہ کر نام حذف کرنے کا فارم بھرا کہ وہ یہاں سے نقل مکانی کر چکے ہیں جبکہ وہ اس شخص کو جانتے تک نہیں۔
اس صورتحال پر الیکشن کمیشن کی غیر جانبدارانہ کارروائی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ سول رائٹس آرگنائزیشن ‘ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس’ (APCR) نے اس معاملے پر ضلع ڈپٹی کمشنر بیدر کو ای میل کے ذریعے شکایت درج کرائی ہے، تاہم تاحال کوئی باضابطہ جواب نہیں ملا ہے۔ دوسری جانب ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے ریاستی صدر طاہر حسین نے بیدر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ مسلمانوں کو حقِ رائے دہی سے محروم کرنے کی ایک منظم سازش ہے۔
انتخابی قوانین (Registration of Electors Rules 1960) کے تحت الیکشن آفیسر کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ تحریری جانچ کی درخواست نہ ہونے کی صورت میں بھی فارم 7 کی بنیاد پر نام کاٹ سکتا ہے جس کے غلط استعمال کا شدید خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔




