کیرالہ میں سیاسی تعطل ختم: وی ڈی ستھیسن نئے وزیر اعلیٰ نامزد

کیرالہ اسمبلی انتخابات میں متحدہ جمہوری محاذ (یو ڈی ایف) کی تاریخی کامیابی کے بعد گزشتہ 11 دنوں سے جاری سیاسی تعطل بالآخر ختم ہو گیا ہے۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ ریاست میں اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے بہترین کارکردگی دکھانے والے وی ڈی ستھیسن نئے وزیر اعلیٰ ہوں گے۔ نئی دہلی میں کانگریس ہیڈکوارٹر میں منعقدہ ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران پارٹی صدر ملکارجن کھرگے اور راہل گاندھی کی موجودگی میں اس فیصلے پر مہر ثبت کی گئی۔ ستھیسن کو کانگریس لیجسلیچر پارٹی کا لیڈر منتخب کر لیا گیا ہے اور وہ اگلے پانچ سال تک ریاست کی قیادت کریں گے۔

نامزدگی کے فوراً بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وی ڈی ستھیسن نے کانگریس ہائی کمان کا شکریہ ادا کیا اور پارٹی کے اتحاد پر زور دیا۔ انہوں نے کے سی وینوگوپال اور رمیش چنیتھلا جیسے سینئر قائدین کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی رہنمائی اور تنظیمی تعاون نے ہی یو ڈی ایف کو اس بڑی جیت تک پہنچایا ہے۔ ستھیسن نے واضح کیا کہ وہ اپنے سینئرز کو ساتھ لے کر چلیں گے تاکہ ریاست کی ترقی اور عوامی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جا سکے۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی ترواننت پورم میں جشن کا ماحول ہے، جہاں کارکنان مٹھائیاں تقسیم کر رہے ہیں اور نئے وزیر اعلیٰ کے حق میں نعرے بازی کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ کی کرسی کے لیے کے سی وینوگوپال کا نام بھی گردش میں تھا اور انہیں اکثریت کی حمایت حاصل تھی، لیکن کانگریس ہائی کمان نے زمینی حقائق اور عوامی موڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے ستھیسن کو ترجیح دی۔ اس فیصلے میں یو ڈی ایف کی کلیدی اتحادی جماعت ‘مسلم لیگ’ کا کردار انتہائی اہم رہا، جس نے واضح موقف اختیار کیا تھا کہ انتخابی مہم کی قیادت کرنے والے شخص کو ہی اقتدار ملنا چاہیے۔ دیگر اتحادیوں بشمول آر ایس پی اور کیرالہ کانگریس نے بھی ستھیسن کی حمایت کی اور خبردار کیا کہ ضمنی انتخابات کا بوجھ عوام پر ڈالنا سیاسی طور پر نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

وی ڈی ستھیسن کے انتخاب میں پارٹی کے تجربہ کار لیڈروں ملاپلی رامچندرن اور وی ایم سدھیرن کی حمایت نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ اے آئی سی سی کے مبصرین مکل واسنک اور اجے ماکن نے اپنی رپورٹ میں عوامی جذبات اور نومنتخب ارکان اسمبلی کی رائے کو واضح طور پر ستھیسن کے حق میں بتایا تھا۔ رمیش چنیتھلا، جو اس دوڑ میں شامل تھے، اب نئی کابینہ میں ایک اہم وزارت سنبھال سکتے ہیں۔ اس فیصلے سے کانگریس نے یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ کیرالہ میں نوجوان اور متحرک قیادت کو آگے لانا چاہتی ہے جو تمام طبقات، بالخصوص اقلیتی برادریوں کے حقوق کا تحفظ کر سکے۔

نئے وزیر اعلیٰ کی حلف برداری کی تقریب اتوار کو ترواننت پورم کے سینٹرل اسٹیڈیم میں منعقد ہوگی۔ اس تقریب میں کانگریس کے مرکزی قائدین کے علاوہ یو ڈی ایف کے تمام اتحادیوں کی شرکت متوقع ہے۔ حلف برداری کے فوراً بعد نئی کابینہ کی تشکیل پر کام شروع کیا جائے گا، جس میں تمام اتحادی جماعتوں کو ان کی طاقت کے تناسب سے نمائندگی دی جائے گی۔ کیرالہ کے عوام اب اس نئی قیادت سے بڑی امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں، خاص طور پر ریاست کی معاشی صورتحال اور سماجی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے حوالے سے ستھیسن کا امتحان شروع ہونے والا ہے۔

شیئر کریں۔