اتراکھنڈ میں آج سے اقلیتی تعلیمی قانون نافذ اور مدرسہ بورڈ ختم،

اتراکھنڈ میں یکم جولائی 2026 سے نیا اقلیتی تعلیمی قانون باقاعدہ طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے، جس کے ساتھ ہی ریاست کا پرانا مدرسہ ایجوکیشن بورڈ ایکٹ اور غیر سرکاری عربی فارسی مدارس کی شناخت کے قواعد مکمل طور پر ختم ہو گئے ہیں۔ دہرادون میں وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے چیف سروس ہاؤس میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران نئے قانون کے تحت رجسٹرڈ ہونے والے اقلیتی تعلیمی اداروں میں اسناد اور سرٹیفکیٹ تقسیم کیے۔ نئے قانون کے مطابق اب ریاست میں صرف وہی مدارس کام کر سکیں گے جنہیں اتراکھنڈ اقلیتی تعلیمی اتھارٹی کی جانب سے باقاعدہ منظوری اور ایکریڈیشن حاصل ہوگی۔

اس نئے تعلیمی ایکٹ کے نفاذ کے بعد ریاست کے تمام منظور شدہ مدارس میں اب دوہری شفٹ کا نظام نافذ کر دیا گیا ہے۔ صبح کی پہلی شفٹ میں طلبہ کے لیے جدید اور لازمی مضامین مثلاً ہندی، انگریزی، ریاضی، سائنس اور کمپیوٹر سائنس کی تعلیم حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ اس کے بعد، شام کی دوسری شفٹ میں بچوں کو روایتی مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ بھارت کا آئین، انسانی حقوق، قومی اتحاد اور بنیادی اخلاقی اقدار کے اسباق پڑھائے جائیں گے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس اقدام سے اقلیتی برادری کے بچوں کو مرکزی دھارے کی تعلیم سے جوڑا جا سکے گا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اتراکھنڈ میں اس وقت تقریباً 452 مدارس سرگرم عمل ہیں، جن میں سے 400 مدارس پہلی سے آٹھویں جماعت تک اور 55 مدارس نویں سے بارہویں جماعت تک تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔ نئے قانون کی سب سے اہم شق یہ ہے کہ محکمۂ تعلیم کے طے شدہ معیارات پر پورا اترنے والے مدارس کے طلبہ کو اب براہ راست ریاستی تعلیمی بورڈ کی اسناد جاری کی جائیں گی، جس سے انہیں اعلیٰ تعلیم اور روزگار کے حصول میں آسانی ہوگی۔ وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت وزیراعظم نریندر مودی کی رہنمائی میں ایک ایسے جدید اور شفاف نظام پر کام کر رہی ہے جو قوم سازی کے معیار پر پورا اترے۔

دوسری جانب، مسلم برادری اور اقلیتی تنظیموں کی جانب سے اس نئے قانون کے عملی نفاذ پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ ماہرینِ تعلیم کا کہنا ہے کہ مدارس میں جدید سائنس اور کمپیوٹر کی تعلیم کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے، لیکن اس بات کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے کہ اقلیتی اداروں کی خودمختاری اور ان کے آئینی حقوق متاثر نہ ہوں۔ مسلم سماج کے نمائندوں کے مطابق، اتراکھنڈ اقلیتی تعلیمی اتھارٹی کی جانب سے منظوری کے عمل کو آسان اور شفاف رکھا جانا چاہیے تاکہ بنیادی ڈھانچے کی کمی کے باعث غریب اور پسماندہ بچوں کی تعلیم میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔

دھامی حکومت نے واضح کیا ہے کہ اس قانون کا مقصد کسی ادارے کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ اقلیتی تعلیمی اداروں کے لیے ایک یکساں، جوابدہ اور معیار پر مبنی یکساں نظام وضع کرنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاست کے بچوں کو جدید ٹیکنالوجی، ہنر اور ہندوستانی اقدار سے بااختیار بنا کر ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر میں شامل کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انتظامیہ نے تمام متعلقہ اضلاع کے تعلیمی افسران کو ہدایات جاری کر دی ہیں کہ وہ مدارس میں دوہری شفٹ کے نظام اور بنیادی تعلیمی ڈھانچے کی نگرانی شروع کر دیں تاکہ نئے قواعد کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے۔

شیئر کریں۔