پی ایم مودی سے متعلق ویڈیو ری ٹوئٹ کرنے پر گرفتار حیدرآبادی صحافی کو مہینوں بعد مل گئی ضمانت

حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے آزاد صحافی حسن محی الدین صدیقی کو مہینوں تک جیل میں قید رہنے کے بعد بالآخر ضمانت مل گئی ہے۔ انہیں اس سال اپریل میں پنجاب پولیس نے وزیر اعظم نریندر مودی سے متعلق ایک مبینہ ویڈیو کو سوشل میڈیا پر ری ٹوئٹ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ اس واقعے نے آزادی صحافت اور سوشل میڈیا پر مواد کی ترسیل کے حوالے سے کئی حلقوں میں تشویش پیدا کر رکھی تھی۔

دستیاب رپورٹس کے مطابق صحافی نے ماہر تعلیم مدھو کشور کی جانب سے پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو کو دوبارہ شیئر کیا تھا۔ اس پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ فیشل مساج کروانے والا شخص مبینہ طور پر وزیر اعظم ہے، اور اس میں یہ بھی الزام لگایا گیا تھا کہ امریکی خفیہ ایجنسیوں کے پاس ان کی کچھ متنازع ویڈیوز موجود ہیں۔ اس عمل کو بنیاد بناتے ہوئے چنڈی گڑھ کے سیکٹر چھبیس پولیس اسٹیشن میں بھارتیہ نیائے سنہتا اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔

اس سے قبل حسن محی الدین صدیقی کی ضمانت کی درخواستیں مسلسل مسترد ہوتی رہی تھیں۔ جولائی کے آخر میں بھی چنڈی گڑھ کی ایک عدالت نے یہ کہتے ہوئے ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا کہ الزامات سنگین نوعیت کے ہیں اور ملزم کو رہا کرنے سے امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ پولیس نے عدالت میں موقف اختیار کیا تھا کہ شیئر کیا گیا مواد اشتعال انگیز ہے اور اس سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ تکنیکی تحقیقات کے بعد سوشل میڈیا اکاؤنٹ اور موبائل نمبر کا تعلق براہ راست صحافی سے جوڑا گیا تھا۔

عدالت نے اپنے پچھلے فیصلوں میں یہ واضح کیا تھا کہ محض چارج شیٹ کا داخل ہونا ضمانت کے لیے کافی نہیں ہے، خاص طور پر جب شیئر کیے گئے مواد سے عوامی امن کو مبینہ طور پر خطرہ لاحق ہو۔ تاہم اب کئی ماہ کی طویل قانونی جدوجہد کے بعد انہیں یہ راحت ملی ہے۔ اس گرفتاری نے جمہوری اصولوں، صحافتی حقوق اور اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنائے جانے کے خدشات پر ایک نئی بحث کو جنم دیا تھا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ قانونی کارروائی آگے کیا رخ اختیار کرتی ہے اور عدالت میں باقاعدہ سماعت کے دوران کیا حقائق سامنے آتے ہیں۔ صحافی کی رہائی ان کے اہل خانہ اور ان کے ہمدردوں کے لیے ایک بڑی راحت کی خبر ہے، جو طویل عرصے سے اس فیصلے کے منتظر تھے اور مسلسل انصاف کا مطالبہ کر رہے تھے۔

شیئر کریں۔