لاء یونیورسٹی میں چیف جسٹس کو مہمان خصوصی بنانے پر طلبہ کی شدید مخالفت

حیدرآباد کی مشہور نیشنل اکیڈمی آف لیگل اسٹڈیز اینڈ ریسرچ (نلسار) یونیورسٹی آف لاء میں ایک غیر معمولی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، جہاں تقریباً ساڑھے چار سو طلبہ نے چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت کو آئندہ کانووکیشن تقریب میں بطور مہمان خصوصی مدعو کرنے کی مخالفت کر دی ہے۔ طلبہ نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر، رجسٹرار اور اساتذہ کو باضابطہ خطوط لکھ کر اس فیصلے پر فوری نظرثانی کی اپیل کی ہے، جس نے قانونی حلقوں اور تعلیمی اداروں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

دستیاب رپورٹس کے مطابق اس مخالفت کی بنیادی وجہ نیٹ پیپر لیک کے خلاف دہلی میں احتجاج کرنے والے طلبہ پر ہونے والی پولیس بربریت سے جڑی ہے۔ طلبہ کا موقف ہے کہ جب اس معاملے کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی، تو چیف جسٹس کے ریمارکس اور طرز عمل مایوس کن تھا۔ عرضی پر سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے پولیس زیادتیوں کا ازخود نوٹس لینے سے انکار کر دیا تھا۔ اس سے بھی بڑھ کر جب ایک وکیل نے پولیس تشدد کی ویڈیو بطور ثبوت دکھانے کی کوشش کی، تو اسے مبینہ طور پر عدالت کے وقت کا ضیاع قرار دیا گیا۔ نلسار کے طلبہ اس رویے کو انسانی اور جمہوری حقوق کے منافی قرار دے رہے ہیں۔

یونیورسٹی میں طویل عرصے سے یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ کانووکیشن تقریب میں مہمان خصوصی کے طور پر ملک کے چیف جسٹس کو ہی مدعو کیا جاتا ہے۔ اگرچہ یونیورسٹی انتظامیہ نے ابھی تک کانووکیشن کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا ہے اور نہ ہی سرکاری طور پر جسٹس سوریہ کانت کی شرکت کی تصدیق کی ہے، لیکن طلبہ نے پیشگی طور پر اپنا احتجاج درج کروا دیا ہے۔ اس مہم کا آغاز تیئس جولائی کو ہوا جب ایل ایل بی مکمل کرنے والے ستر طلبہ نے انتظامیہ کو پہلا خط لکھا۔ اس کے بعد موجودہ سیشن کے تقریباً تین سو اسّی طلبہ نے بھی اس مطالبے کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے الگ الگ خطوط بھیجے ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ نلسار یونیورسٹی کی انتظامیہ طلبہ کے اس دباؤ اور غیر معمولی مطالبے پر کیا ردعمل ظاہر کرتی ہے۔ کیا روایات کو برقرار رکھتے ہوئے چیف جسٹس کو ہی مدعو کیا جائے گا یا طلبہ کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے کوئی نیا فیصلہ لیا جائے گا۔

شیئر کریں۔