کمٹہ (فکروخبرنیوز) ضلع اتر کنڑ کے انچارج وزیر لکشمن ساوادی نے سرکاری افسران کو سخت ہدایت دی ہے کہ وہ ‘پراجا سیوا’ (عوامی خدمت) مہم کے دوران موصول ہونے والی تمام عوامی درخواستوں کو زیادہ سے زیادہ 15 دنوں کے اندر حل کریں۔ وہ ہفتہ کے روز کمٹہ تعلقہ کے دیوگی میں منعقدہ تعلقہ سطحی ‘پراجا سیوا’ مہم کے اجلاس کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کر رہے تھے۔
وزیر انچارج لکشمن ساوادی نے اپنے خطاب میں کہا کہ عوامی نمائندوں اور سرکاری اہلکاروں کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ وہ عوام کے خادم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ ڈی کے شیواکمار کے وژن کے مطابق، اس مہم کا مقصد انتظامیہ کو عوام کے دہلیز تک پہنچانا ہے تاکہ شہریوں کی مشکلات اور مسائل کو سن کر ان کا ازالہ کیا جا سکے۔
انہوں نے افسران کو واضح ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی درخواست قانونی دائرے یا قواعد و ضوابط کے تحت حل نہیں کی جا سکتی تو درخواست دہندہ کو اس کی واضح اور تحریری وجہ فراہم کی جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بغیر کسی معقول وجہ کے درخواستوں کو التواء میں رکھنے پر حکومت ہرگز برداشت نہیں کرے گی۔ وزیر موصوف نے مزید کہا کہ وہ خود تعلقہ اور ہوبلی سطح پر موصول ہونے والی درخواستوں کی پیشرفت کا جائزہ ہر تین ماہ بعد منعقد ہونے والے ضلع سطحی اور کے ڈی پی (KDP) اجلاسوں میں لیں گے۔
اجلاس کے دوران کمٹہ کے ایم ایل اے دنکر کے شیٹی نے بھی عوامی مسائل کو اٹھایا۔ انہوں نے جنگلاتی زمینوں پر سالہا سال سے آباد غریب خاندانوں کو زمین کے مالکانہ حقوق اور مکانات کی تعمیر میں درپیش مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کابینہ کے اجلاس میں اس پر غور کیا جائے اور جن کا جی پی ایس (GPS) سروے مکمل ہو چکا ہے، انہیں 3 سے 5 گنٹہ زمین پر گھر بنانے کی اجازت دی جائے۔ ایم ایل اے نے سرسی ڈویژن کے دور ہونے کی وجہ سے درپیش مشکلات کے پیش نظر کمٹہ، بھٹکل، ہوناور، انکولہ اور کاروار کے لیے ایک علیحدہ نارتھ ویسٹرن کرناٹک روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن (NWKRTC) سب ڈویژن قائم کرنے اور گوکرن کے تنگ روڈ کی کشادگی کا بھی مطالبہ کیا۔
اس موقع پر مختلف سرکاری شعبہ جات سے متعلق کل 412 عوامی درخواستیں موصول ہوئیں، جبکہ شعبہ جنگلات اور محکمہ مالیات کی مختلف اسکیموں کے تحت مستحقین میں فوائد اور جاب کارڈز بھی تقسیم کیے گئے۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کے لکشمی پریا، ضلع پنچائت کے سی ای او ڈاکٹر دلیش ششی، اور دیگر اعلیٰ سرکاری و انتظامی افسران موجود تھے۔




