منگلورو میں ۱۸ ستمبر کو منعقدہ کرناٹک کابینہ کے اہم اجلاس میں ضلع اتر کنڑ کے بنیادی ڈھانچے، معیشت، فضائی رابطے اور ساحلی سیاحت کے لیے متعدد انقلابی منصوبوں کو باضابطہ منظوری دی گئی ہے۔ ان فیصلوں میں مانکی میں کثیر المقاصد بندرگاہ کی تعمیر، کاروار ایئرپورٹ کی توسیع، بھٹکل، کاروار اور انکولہ کے سات جزائر کو عالمی سطح کے سیاحتی مراکز بنانے اور ماہی گیری شعبے کے فروغ کے لیے کروڑوں روپے کے منصوبے شامل ہیں۔ ریاستی حکومت کے اس اقدام کا مقصد ساحلی خطے میں روزگار، نجی سرمایہ کاری اور بنیادی شہری و تجارتی سہولیات کو نئی بلندیوں تک پہنچانا ہے۔
کابینہ نے بھٹکل، کاروار اور انکولہ تعلقہ جات میں واقع سات غیر آباد جزائر جن میں مدھیہ لنگڈ، دیو گڈ، ہوگ، مونگر گڈا، کیری کنڈ، انکنی چیگڈ اور کرم گڈ شامل ہیں، پر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت سیاحتی انفراسٹرکچر تیار کرنے کے لیے307.71 کروڑ روپے کے منصوبے کی توثیق کی۔ یہ پروجیکٹ 59 ایکڑ اور 31 گنٹہ اراضی پر نافذ کیا جائے گا، جس سے حکومت کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے 145.87 کروڑ روپے کے محصولات کے ساتھ سالانہ8.7 کروڑ روپے لیز فیس ملنے کی توقع ہے، جس میں ہر سال پانچ فیصد اضافہ ہوگا۔
کاروار ایئرپورٹ کی ترقی کے لیے حکومت نے پروجیکٹ کے تخمینے کو 98.24 کروڑ روپے سے بڑھا کر250.05 کروڑ روپے کرنے کی ترمیم شدہ انتظامی منظوری دی ہے۔ اس توسیع کے تحت ایئرپورٹ کے موجودہ 2000میٹر طویل رن وے کو 3250 میٹر تک بڑھایا جائے گا تاکہ کاروار میں ایئربس اے 320 طرز کے بڑے مسافر طیاروں کی باآسانی لینڈنگ اور ٹیک آف ممکن ہو سکے۔ اس پروجیکٹ کے تحت سول انکلیو کی تعمیر، رابطہ سڑکوں کی کشادگی اور متاثرہ افراد کی بازآبادکاری کی جائے گی، جس کے لیے 93ایکڑ سے زائد اراضی حاصل کرنے کا عمل جاری ہے۔
صنعتی اور تجارتی اعتبار سے سب سے بڑا فیصلہ مانکی پورٹ سے متعلق سامنے آیا ہے، جہاں 6,925کروڑ روپے کی خطیر لاگت سے 15 ملین ٹن سالانہ صلاحیت کی حامل کثیر المقاصد بندرگاہ اور جہاز سازی مرکز کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ یہ پروجیکٹ ریاست کے اندر قریباً 28,000 کروڑ روپے کی معاشی سرگرمیوں کو جنم دے گا اور اندازے کے مطابق اس کے ذریعے خطے کے نوجوانوں کو 44,800 بلاواسطہ اور بالواسطہ روزگار کے مواقع حاصل ہوں گے، جس سے ساحلی آبادی کی معاشی حالت میں غیر معمولی بہتری کی امید ہے۔
ساحلی ماہی گیر برادری کی بہبود اور معاشی سہولت کے لیے کابینہ نے اتر کنڑ، اڈپی اور دکشن کنڑ اضلاع میں ماہی گیری کی رابطہ سڑکوں کی بحالی کے لیے ۲۰ کروڑ روپے منظور کیے ہیں اور ان اضلاع کے ساحلی علاقوں کو خصوصی سمندری زون قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ ساحلی و ملناڈ ٹورازم پالیسی ۲۰۲۶ کے تحت اتر کنڑ کے قدرتی ساحلوں، جزائر، مغربی گھاٹ، ایکو ٹورازم اور مانسون ٹورازم سرکٹس کو جدید طرز پر منظم کرنے کا لائحہ عمل تیار کیا گیا ہے۔
کابینہ کے ان فیصلوں پر آئندہ چند مہینوں میں عملی کام کے آغاز کی توقع ہے جس کے لیے متعلقہ محکموں کو پرائیویٹ پارٹنرز کے انتخاب، اراضی کے قانونی عمل اور مالیاتی امور کو تیزی سے حتمی شکل دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔




